Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
40 - 736
عالم کو چاہیے کہ وہ اپنا علم طالب العلم پر خرچ کرے اور اس میں کنجوسی نہ کرے۔ ''واللہ اعلم

(۲۷)۔۔۔۔۔۔ حضر ت قبیصہ بن مُخارِق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ،''اے قبیصہ! کیسے آئے ؟'' میں نے عرض کیا، ''میری عمر زیادہ ہوگئی اور ہڈیاں نرم پڑ گئیں ہیں ،میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسی چیز سکھائیں جو میرے لئے مفید ہو۔'' تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، ''اے قبیصہ !( علم کی جستجومیں) تم جس پتھر یا درخت کے قریب سے بھی گزرے اس نے تمہارے لئے استغفارکیا ۔''
(مسند اما م احمد ، مسند البصرین / حدیث قبیصہ بن مخا رق ، رقم ۲۰۶۲۵ ، ج ۷، ص ۳۵۲ )
(۲۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' جو صبح کو مسجد کی طرف بھلائی سیکھنے یا سکھانے کے ارادے سے چلے گا اسے کامل حج کرنے والے کا ثواب ملے گا ۔''
    (طبرانی کبیر ، رقم ۷۴۷۳ ، ج ۸، ص ۹۴ )
(۲۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' جو علم کی تلاش میں نکلتاہے وہ واپس لوٹنے تک اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہوتا ہے۔''
(جامع ترمذی، کتاب العلم ، باب فضل طلب العلم ، رقم۲۶۵۶، ج۴، ص۲۹۴)
     حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ فرماتے ہیں ،''میں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ''جو میری اس مسجد میں صرف بھلائی کی بات سیکھنے یا سکھانے کیلئے آیا تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہے اور جو کسی اور نیت سے آیا تو وہ غیر کے مال پر نظر رکھنے والے کی طرح ہے۔''
   (سنن ابن ماجہ ، کتا ب العلم ، باب فضل العلماء ، رقم۲۲۷، ج ۱، ص ۱۴۹)
(۳۰)۔۔۔۔۔۔ امیرالمومنین حضر ت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ ''جو بندہ علم کی جستجو میں جوتے ، موزے یا کپڑے پہنتا ہے تو اپنے گھر کی چوکھٹ سے نکلتے ہی اس کے گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں۔''
(طبرانی اوسط ، باب المیم ، رقم ۵۷۲۲ ، ج ۴ ص ۲۰۴)
(۳۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا واثلہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشادفرمایا ، ''جس نے علم کی جستجو کی اور اسے
Flag Counter