Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
39 - 736
    حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ'' میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے یہ بات سننے کے بعد کوئی حدیث نہیں بھولا۔ ''
   (الترغیب والترہیب، کتاب العلم ، الترغیب فی العلم الخ، رقم۲۰، ج۱، ص۵۴)
(۲۳) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' سب سے افضل صدقہ یہ ہے کہ مسلمان علم سیکھے ،پھر اپنے اسلامی بھائی کو سکھائے ۔''
 (سنن ابن ماجہ ، کتا ب السنہ ، با ب ثواب معلم الناس با لخیر، رقم ۲۴۳، ج ۱، ص ۱۵۸)
(۲۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ا ۤقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' تمہاراکسی کو کتاب اللہ کی ایک آیت سکھانے کے لئے جانا تمہارے لئے سو رکعتیں ادا کرنے سے بہتر ہے اور تمہارا کسی کو علم کا ایک باب سکھانے کے لئے جانا خواہ اس پر عمل کیا جائے یا نہ کیا جائے تمہارے لئے ہزار رکعتیں اداکرنے سے بہترہے ۔''
(سنن ابن ماجہ ، کتاب السنۃ، باب فضل من تعلم القران وعلمہ، رقم ۲۱۹ ، ج ۱، ص ۱۴۲)
(۲۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' جب تم جنت کی کیا ریوں سے گزراکرو تو اس میں سے خوب  چن لیا کرو۔'' صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا،''یا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم !جنت کی کیاریاں کونسی ہیں ؟''فرمایا،'' علم کی محفلیں۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۱۱۱۵۸، ج ۱۱ ، ص ۷۸)
(۲۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' حکمت مومن کا گمشدہ خزانہ ہے لہٰذا مومن اسے جہاں پائے وہی اس کا زیادہ حقدار ہے ۔''
   (سنن ترمذی ، کتا ب العلم ، با ب ماجاء فی فضل الفقہ علی العبادۃ ، رقم ۲۶۹۶، ج ۴، ص ۳۱۴)
وضاحت :
    نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے حکمت کو گمشدہ شے سے تشبیہ دینے سے مراد یہ ہے کہ مومن ہمیشہ علم کو تلاش کرتارہتا ہے جیسا کہ اگرکسی شخص کی کوئی چیز گم ہو جائے تو وہ اسے تلاش کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اسے پا لیتاہے۔ اس بات کاایک دوسرا معنی یہ ہے کہ جسکی چیز گم ہو جائے وہ اسے تلاش کرتا رہتا ہے اگر اسے وہ شے کسی بچے کے پاس بھی ملے تو بھی اسے لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ،اسی طرح طالب العلم کو بھی چاہیے کہ وہ حصولِ علم میں کوئی عار محسوس نہ کرے ۔جبکہ اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ جس کے پاس کوئی گمشدہ چیزموجود ہو اس کے لئے جائز نہیں کہ اسے اس کے مالک سے چھپائے کیونکہ وہی اس کا حقدار ہے لہٰذا
Flag Counter