Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
393 - 736
کرنے والوں سے افضل شے عطافرماؤں گا اور کلام اللہ  کو دیگرکلاموں پر ایسی فضیلت حاصل ہے جیسی اللہ عزوجل کی اپنی مخلوق پر فضیلت ہے ۔''
    (ترمذی، کتاب فضائل القرآن ،باب (۲۵) ،رقم ۲۹۳۵ ،ج۴، ص ۲۲۷)
(۱۱۰۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' قرآن پڑھنے والے مؤمن کی مثال اس سنگترے کی طرح ہے جسکی خوشبو بھی اچھی ہے اور ذائقہ بھی اچھا ہے اور قرآن نہ پڑھنے والے مومن کی مثال اس کھجور کی طرح ہے جسکی خوشبو تو نہیں ہوتی مگر ذائقہ اچھا ہوتاہے اور قرآن پڑھنے والے منا فق یا فاجرکی مثال اس پھول کی طرح ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے مگر ذائقہ کڑواہوتاہے اور قرآن نہ پڑھنے والے منافق یا فاجر کی مثال اس تمّاں (ایک بوٹی)کی طرح ہوتی ہے جس کی خوشبو نہیں ہوتی اورذائقہ بھی کڑواہوتاہے ۔ ''
  (مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین ،باب فضیلۃ حافظ القرآن ،رقم ۹۷ ۷، ص ۴۰۰)
(۱۱۰۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ایک لشکر تیار فرمایا جوکثیر افراد پر مشتمل تھا، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے ان سے قرآن پڑھنے کے لئے کہا سب لوگ قرآن پڑ ھنے لگے ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ایک چھوٹے بچے کے پا س تشریف لا ئے اور فرمایا،'' تمہیں کتنا قرآن یا د ہے؟'' اس نے عرض کیا،'' اتنا اتنا او ر سورہ بقرہ ۔'' آپ نے فرمایا، ''کیا تمہیں سورہ بقر ہ یا د ہے ؟''اس نے عرض کیا ،''جی ہاں ۔'' فرمایا،''جاؤ تم ان کے امیر ہو۔''

تو ان کے سرداروں میں سے ایک شخص نے عرض کیا، ''خدا کی قسم! سورہ بقرہ سیکھنے سے مجھے صرف اس خوف نے روک دیا کہ میں اسے یاد نہ رکھ سکوں گا۔''

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،'' قرآن سیکھو اور اسے پڑھا کروکیونکہ قرآن سیکھ کر پڑھنے والے کی مثال مشک سے بھرے ہو ئے چمڑے کے تھیلے کی طرح ہے جس کی خوشبو سارے گھر میں پھیل جاتی ہے اور جس نے قرآن سیکھا پھر غا فل ہو گیا اور اس کے سینے میں قرآن ہے تو اس کی مثال چمڑے کے اس تھیلے کی طرح ہے جس کے ذریعے مشک کو ڈھانپ دیا گیاہو۔''
(ترمذی، کتاب فضائل القرآن ،باب ماجاء فی فضل سورۃ البقرۃ الخ، رقم ۲۸۸۵، ج۴ ،ص ۴۰۱)
(۱۱۰۳)۔۔۔۔۔۔ ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاـ ،'' قرآن پڑھنے میں مہارت رکھنے والاکراماً کاتبین کے ساتھ ہے اور جو مشقت کے ساتھ اٹک اٹک کر قرآن پڑھتاہے اس کے لئے دُگنا ثواب ہے۔''
(مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین ،باب فضل الماھر بالقرآن الخ، رقم ۷۹۸، ص ۴۰۰)
Flag Counter