Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
392 - 736
نازل ہوتاہے ،انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے ، ملائکہ انہیں (اپنے پرو ں سے) چھوتے ہیں اور اللہ عزوجل ملائکہ کے سامنے ان کا چرچا فرماتاہے۔ ''
   (مسلم، کتاب الذکر والدعاء، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن، رقم ۲۶۹۹ ،ص ۱۴۴۷)
(۱۰۹۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو کتاب اللہ  میں سے ایک حرف پڑھے گاتو اسے ایک نیکی ملے گی او ریہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے میں نہیں کہتا کہ الۤم ایک حر ف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے اور لا م ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔''
(تر مذی ، کتاب فضائل القرآن ، باب ماجاء فی من قرأ حرفا ..الخ ، رقم ۲۹۱۹ ،ج ۴ ، ص ۴۱۷)
    جبکہ ایک روایت میں ہے کہ،'' بیشک یہ قرآن اللہ عزوجل کے دسترخوان کی مثل ہے لہذا تم سے جتناہوسکے اس دسترخوان سے کھا لیا کرو،یہ قرآن اللہ عزوجل کی رسی ، روشن نور اور نفع بخش شفا ہے جو اسے تھام لے یہ اس کی حفاظت کرتاہے اور جو اس کی پیروی کرے تو اس کیلئے نجات ہے ، یہ کج روی اختیارنہیں کرتا کہ اسے منانا پڑے ،ٹیڑھا نہیں ہوتا کہ اسے سیدھا کرنا پڑے، اس کے عجائبا ت ختم نہیں ہونگے نہ ہی یہ کثر تِ تکرار سے بوسیدہ ہوگا، اس کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اللہ عزوجل اس کے ہر حرف کی تلاوت پر تمہیں دس نیکیاں عطافرمائے گا اور میں نہیں کہتا کہ الۤم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حر ف، لام ایک حرف اورمیم ایک حرف ہے۔''
 (المستدرک ،کتاب فضائل القرآن ، رقم ۲۰۸۴ ، ج ۲ ، ص ۲۵۶)
(۱۰۹۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے کتا ب اللہ عزوجل کی ایک آیت توجہ کے ساتھ سنی اس کے لئے نیکی اضافہ کے ساتھ لکھی جائے گی اور جس نے اس کی تلاوت کی وہ آیت قیامت کے دن اس کے لئے نورہو گی ۔''
  (مسند احمد، مسند ابی ہریرۃ،رقم ۸۵۰۲، ج۳ ،ص ۲۴۵)
(۱۰۹۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!مجھے وصیت فرمائیے ۔''توآپ نے ارشاد فرمایا ،''اﷲعزوجل کے خوف کو خود پر لازم کرلو کیونکہ یہی ہرکام کی اصل ہے ۔''میں نے عرض کیا،'' مزید نصیحت فرمائیے ۔''تو ارشا دفرمایا کہ قرآن کی تلاوت کو خود پر لازم کرلو کیونکہ یہ تمہارے لئے زمین میں نور اور آسمانوں میں ذخیرہ ہوگی ۔''
 (الترغیب والترہیب، کتاب قرا ء ۃ القران ،باب التر غیب فی قراء ۃ القرآن،رقم ۱۰ ،ج۲ ،ص ۲۲۷)
(۱۱۰۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل فرماتاہے کہ جسے قرآن نے مجھ سے مانگنے سے روک دیا میں اسے سوال
Flag Counter