Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
391 - 736
گھوڑا(میرے بیٹے )یحیٰ کو نہ روند ڈالے،جب میں گھوڑے کو پکڑنے کیلئے کھڑا ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرے سر پر ایک چھتری سایہ کنا ں ہے جس میں چراغ روشن ہے اور وہ چھتری فضا میں معلق ہے پھر وہ فضاء میں گم ہوگئی اور میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔ 

    صبح کے وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں گزشتہ رات اپنے اصطبل میں قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا کہ میرا گھوڑا مست ہوگیا ۔''تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اے ابن حضیر! قرآن پڑھو۔'' میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا پھر مست ہوگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پھرفرمایا ، ''اے ابن حضیر ! پڑھو۔'' تومیں پڑھنے لگا اورگھوڑا پھرمست ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے دوبارہ ارشاد فرمایا،'' اے ابن حضیر پڑھتے رہو۔'' پھر جب میں وہاں سے لوٹا تو میں نے اپنے سر پر ایک چھتری کو سایہ کناں دیکھا جس میں چراغ رو شن تھے اوروہ فضاء میں معلق تھی پھر وہ فضاء میں بلند ہوتی گئی یہاں تک کہ میری نظروں سے او جھل ہوگئی، اسوقت( میرا بیٹا ) یحیٰ گھوڑے کے قریب تھا مجھے خوف محسوس ہوا کہ کہیں گھوڑا اسے روند نہ ڈالے۔ 

    پھررسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' یہ ملائکہ تھے جو تمہاری قراءت سننے آئے تھے اگرتم تلاوت کرتے رہتے توصبح لوگ انہیں دیکھتے اور ان میں سے کوئی پوشیدہ نہ رہتا۔''
(مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین ،باب نزول السکینۃ لقراء ۃ القر آن ، رقم ۷۹۶ ، ص ۳۹۹)
(۱۰۹۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا براء رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی روایت میں ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' یہ سکینہ تھا جو قرآن کے لئے اتراتھا۔''
(مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین ، باب نزول السکینۃ لقراء ۃ القرآن ، رقم ۷۹۵ ، ص۳۹۹)
     ایک اور روایت میں ہے کہ ''جب میں مڑا تو میں نے آسمان وزمین کے درمیان چراغ لٹکے ہوئے دیکھے ۔پھر میں نے عرض کیا ۔''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں قراء ت جاری رکھنے کی استطاعت نہ رکھ سکا ۔''تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''وہ فرشتے تھے جو قران پاک کی قراء ت سننے کے لئے اترے تھے اگر تم قراء ت کرتے رہتے تو بہت سے عجائبات دیکھتے ۔''
(المستدرک ،کتاب فضائل القرآن ، باب الامر بتعا ھدا لقرآن والنھی الخ ، رقم ۲۰۷۹ ، ج ۲ ، ص ۲۵۴)
(۱۰۹۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہر یرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو قوم اللہ عزوجل کے گھروں میں سے کسی ایک گھر میں کتاب اللہ  کی تلاوت کرنے اور آپس میں اس کی تکرار کرنے کے لئے جمع ہوتی ہے توان پر سکینہ
Flag Counter