گھوڑا(میرے بیٹے )یحیٰ کو نہ روند ڈالے،جب میں گھوڑے کو پکڑنے کیلئے کھڑا ہوا تو میں نے دیکھا کہ میرے سر پر ایک چھتری سایہ کنا ں ہے جس میں چراغ روشن ہے اور وہ چھتری فضا میں معلق ہے پھر وہ فضاء میں گم ہوگئی اور میری نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔
صبح کے وقت میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں گزشتہ رات اپنے اصطبل میں قرآن پاک کی تلاوت کررہا تھا کہ میرا گھوڑا مست ہوگیا ۔''تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اے ابن حضیر! قرآن پڑھو۔'' میں نے قرآن پڑھنا شروع کیا تو گھوڑا پھر مست ہوگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے پھرفرمایا ، ''اے ابن حضیر ! پڑھو۔'' تومیں پڑھنے لگا اورگھوڑا پھرمست ہوگیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے دوبارہ ارشاد فرمایا،'' اے ابن حضیر پڑھتے رہو۔'' پھر جب میں وہاں سے لوٹا تو میں نے اپنے سر پر ایک چھتری کو سایہ کناں دیکھا جس میں چراغ رو شن تھے اوروہ فضاء میں معلق تھی پھر وہ فضاء میں بلند ہوتی گئی یہاں تک کہ میری نظروں سے او جھل ہوگئی، اسوقت( میرا بیٹا ) یحیٰ گھوڑے کے قریب تھا مجھے خوف محسوس ہوا کہ کہیں گھوڑا اسے روند نہ ڈالے۔
پھررسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' یہ ملائکہ تھے جو تمہاری قراءت سننے آئے تھے اگرتم تلاوت کرتے رہتے توصبح لوگ انہیں دیکھتے اور ان میں سے کوئی پوشیدہ نہ رہتا۔''