Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
390 - 736
اللہ تعالی کی رضا کے لئے قرآن پڑھے اور اس کے ذریعے قوم کی امامت کرائے اور قوم بھی اس سے راضی ہو۔ (دوسرا:) اللہ عزوجل کی رضا کے لئے نمازوں کی طرف بلانے والا (یعنی موذن) ۔(تیسرا:) وہ غلام جس نے اپنے رب عزوجل اور اپنے د نیوی آقا کا معاملہ خوش اسلوبی سے نبھایا۔''
    (طبرانی اوسط ،من اسمہ ولید ، رقم ۹۲۸۰ ، ج ۶ ، ص۴۲۵)
     ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں،'' اگر میں نے یہ با ت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے سات مرتبہ نہ سنی ہو تی تو میں اسے ہرگز نہ بیان کرتا ۔ ''پھر فرمایا ،''میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ تین افراد مشک کے ٹیلوں پر ہونگے قیامت کے دن کی گھبراہٹ انہیں دہشت زدہ نہ کرے گی اور وہ اس وقت بھی پر سکون ہونگے جب لوگ دہشت زدہ ہونگے ۔(۱)وہ شخص جس نے قرآن سیکھا پھر اس کے ذریعے اللہ عزوجل کی رضا اور انعام کا طلب گار ہوا،الخ''
    (طبرانی کبیر ، رقم ۱۳۵۸۴ ، ج۱۲ ، ص۳۳۱)
(۱۰۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' تم اللہ عزوجل کی طرف قرآن سے افضل کسی عمل کے ساتھ نہیں لوٹو گے۔''
(المستدرک ،کتاب فضائل القرآن، باب الجاھر با لقرآن الخ، رقم ۲۰۸۳، ج۲، ص ۲۵۶)
(۱۰۹۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل نے بندے کو دورکعتیں اداکرنے سے افضل کسی شے کا اذن نہیں دیا اور بندہ جب تک نماز میں ہوتاہے اس پر رحمتیں نچھاور ہوتی رہتی ہیں اور بندے قرآن کی مثل کسی اور چیز سے اللہ عزوجل کی قربت نہیں پاتے ۔''
(ترمذی، کتاب فضائل القرآن ، باب ۱۷،رقم ۲۹۲۰ ،ج۴ ،ص ۴۱۸)
(۱۰۹۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک لوگوں میں سے کچھ اللہ والے ہیں ۔''صحابہ کرام علیھم الرضوان نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون لوگ ہیں ؟ ''فرمایا،'' قرآن پڑھنے والے کہ یہی لو گ اللہ والے اور خواص میں شامل ہیں ۔''
(ابن ماجہ،کتاب السنۃ، باب فی فضل من تعلم القرآن وعلمہ، رقم ۲۱۵ ،ج۱ ،ص ۱۴۰)
(۱۰۹۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خدر ی رضی اﷲ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیدنا اُسَید بن حُضَیر رضی اللہ عنہ ایک رات اپنے اصطبل میں قرآن کی تلاوت فرمارہے تھے کہ ان کا گھوڑا چکر لگانے لگا۔ انہوں نے دوبارہ قرآن کی تلاوت شروع کی تو گھوڑا دوبار ہ اُچھلنے لگا، تیسری مرتبہ بھی ایسے ہی ہوا ۔حضرتِ سیدنا اسید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے خدشہ ہوا کہ کہیں
Flag Counter