Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
389 - 736
پڑھتاجااور جنت کے درجات طے کرتاجا اور ٹھہرٹھہر کر پڑھ جیساکہ تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کرپڑھا کرتاتھا تو جہاں آخری آیت پڑھے گا وہیں تیراٹھکانا ہوگا۔''
  (ابو داؤد، کتاب الوتر، باب استحبا ب الترتیل فی القراء ۃ، رقم ۱۴۶۴ ،ج۲، ص ۱۰۴)
وضاحت:
     حضرتِ سیدنا ابوسلیمان خطابی علیہ الرحمہ''معالم السنن''میں فرماتے ہیں کہ '' روایات میں آیا ہے کہ قرآن کی آیتوں کی تعداد جنت کے درجات کے برابر ہے لہذاقاری سے کہا جائے گا کہ تو جتنی آیتیں پڑھ سکتاہے اتنے درجے طے کرتاجاتو جواس وقت پورا قرآن پاک پڑ ھ لے گا وہ جنت کے انتہائی درجے کو پالے گا اور جس نے قرآن کا کوئی جز پڑھا تو اس کے ثواب کی انتہاء قراء ت کی انتہاء تک ہوگی۔'' واللہ اعلم بالصواب 

(۱۰۸۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' قیامت کے دن قرآن پڑھنے والا آئے گا تو قرآن عرض کریگا ،''اے رب عزوجل! اسے حُلَّہ پہنا۔'' تو اسے کرامت کا حلہ پہنایا جائے گا ۔پھر قرآن عرض کریگا،''یا رب! اس میں اضافہ فرما ۔'' تو اسے کرامت کاتاج پہنا یاجائے گا۔پھر قرآن عرض کریگا، ''اے رب عزوجل !اس سے راضی ہو جا۔'' تو اللہ عزوجل اس سے راضی ہوجائے گا ۔ پھر اس قرآن پڑھنے والے سے کہاجائے گا،'' قرآن پڑھتاجااور جنت کے درجات طے کرتا جا اور ہر آیت پر اسے ایک نعمت عطا کی جائیگی۔''
   (ترمذی، کتاب فضائل القرآن، رقم ۲۹۲۴ ،ج۴، ص۴۱۹ )
(۱۰۸۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جاسکتاہے ،ایک: اس شخص پرجسے اللہ عزوجل نے قرآن سکھا یا اور وہ دن رات اسے پڑھتا رہے اور اس کا پڑوسی اسے سن کر کہے کا ش !مجھے بھی فلا ں شخص کی مثل قرآن کی توفیق ملتی تو میں بھی اس کی طرح عمل کرتا،دوسرا:اس شخص پر جسے اللہ عزوجل نے مال عطا فرمایا اور وہ راہِ حق میں اسے خرچ کرے اور کوئی شخص کہے کہ کاش! مجھے بھی فلاں شخص کی مثل مال ملتا تو میں بھی اسی کی طر ح عمل کرتا ۔''
(بخاری ،کتاب فضائل القرآن، باب اغتباط صاحب القرآن، رقم ۵۰۲۶ ،ج۳ ،ص ۴۱۰)
(۱۰۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمررضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاـ ـ،''تین لوگ ایسے ہونگے جنہیں بڑی گھبراہٹ (یعنی قیامت )دہشت زدہ نہ کرسکے گی اور حساب ان تک نہ پہنچے گا، وہ مشک کے ٹیلے پر ہونگے یہاں تک کہ مخلوق حساب سے فارغ ہوجائے ۔(پہلا:)وہ شخص جو
Flag Counter