| جنت میں لے جانے والے اعمال |
عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اے ابو ذر! تمہارا صبح کے وقت کتاب اللہ کی ایک آیت سیکھنے کے لئے چلنا تمہارے لئے سورکعتیں پڑھنے سے بہتر ہے اور تمہارا صبح کے وقت علم کا ایک باب سیکھنے کے لئے جانا خواہ اس پر عمل کیاجائے یا نہ کیا جائے تمہارے لئے ہزار رکعتیں پڑھنے سے بہتر ہے ۔''
(ابن ماجہ، کتاب السنۃ ،باب فضل من تعلم القرآن وعلمہ، رقم ۲۱۹ ،ج۱ ، ص ۱۴۲)
(۱۰۸۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے قرآن پڑھا اور اس پر عمل کیا، قیامت کے دن اس کے والدین کو ایسا تاج پہنایا جائے گاجس کی روشنی دنیاکے سورج کی روشنی سے زیادہ ہوگی تو تمہارا قرآن پر عمل کرنے والے کے بارے میں کیا خیال ہے؟''
(ابو داؤد، کتاب الوتر، با ب فی ثواب قرأۃ القرآن، رقم ۱۴۵۳، ج۲ ،ص ۱۰۰)
(۱۰۸۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے قرآن پڑھا اور اسے سیکھا اور اس پر عمل کیا اس کے والدین کو قیامت کے دن نور کا ایک ایسا تاج پہنایا جائے گا جسکی چمک سورج کی طرح ہوگی اور اس کے والدین کو دوحلے پہنائے جائیں گے جنکی قیمت یہ دنیاادا نہیں کرسکتی تو وہ پوچھیں گے،'' ہمیں یہ لباس کیوں پہنائے گئے ہیں؟'' ان سے کہاجائے گا ،'' تمہارے بچوں کے قرآن کو تھامنے کے سبب۔''
(المستدرک ،کتاب فضائل القرآن، باب من قراالقرآن وتعلمہ الخ، رقم ۲۱۳۲، ج۲، ص ۲۷۸)
(۱۰۸۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں،'' جس نے قرآن پڑھا اسے بری عمر کی طرف نہیں لوٹایاجائے گا ۔''کیونکہ اللہ عزوجل فرماتاہے:
ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سَافِلِیۡنَ ۙ﴿5﴾اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ
ترجمہ کنزالایمان :پھر اسے ہر نیچی سے نیچی حالت کی طرف پھیردیا مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے۔(پ 30 ، التین : 5۔6)
پھر فرمایا،'' اچھے کام کرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے قرآن پڑھاہوگا۔''(المستدرک ،کتاب التفسیر ، باب من قرأ القرآن لم یرد الی ارذل العمر ، رقم ۴۰۰۶ ، ج ۳ ، ص ۳۸۲)
(۱۰۸۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعبداﷲ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''قرآن پڑھنے والے سے کہاجائے گاکہ قرآن