| جنت میں لے جانے والے اعمال |
کو سونے سے روک دیا تھا لہذامیری شفاعت اس کے حق میں قبول فرما۔'' پھران دونوں کی شفاعت قبول کرلی جائے گی۔''
(التر غیب والترہیب ، کتاب قراء ۃ القرآن فی الصلاۃ ، رقم ۲۲ ، ج ۲ ، ص ۲۳۰)
(۱۰۷۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اﷲ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' قرآن شفاعت کریگا اور اس کی شفاعت قبول کی جائے گی اور جھگڑے گاتو اس کی تصدیق کی جائے گی جو شخص اسے اپنے پیش نظر رکھے گا یہ جنت تک اس کی قیادت کریگا اور جو اسے پس پشت ڈال دے گا یہ اسے ہانکتا ہوا جہنم میں لے جائے گا ۔''
(طبرانی کبیر ، رقم۱۰۴۵۰ ، ج ۱۰ ، ص ۱۹۸ )
(۱۰۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ، '' جس نے قرآن پڑھا اورپھر اسے یاد کرلیا ،اس کے حلال کو حلال جانا اور حرام کو حرام جاناتو اللہ عزوجل اسے جنت میں داخل فرمائے گا اوراس کے گھر والوں سے ایسے دس افرادکے حق میں اس کی شفاعت قبول فرمائے گا جن پر جہنم واجب ہوچکی ہوگی۔''
(ترمذی ،کتاب فضائل القرآن، باب ماجاء فی فضل قاری القرآن، رقم ۲۹۱۴، ج۴ ،ص ۴۱۴)
(۱۰۸۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' تم میں سے بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھا ئے۔''
(بخاری ،کتاب فضائل القرآن باب خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ، رقم ۵۰۲۷، ج۳ ،ص ۴۱۰)
(۱۰۸۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُقْبَہ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم باہر تشریف لائے ہم اس وقت صفہ (مسجد نبوی شریف کے باہر چبوترے )پر بیٹھے تھے ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،'' تم میں سے کون یہ پسند کرتاہے کہ وہ روزانہ صبح کو بُطحان یا عقیق کی وادیوں میں جائے اورکوئی گناہ اور قطع رحمی کئے بغیر دو بڑے کوہان والی اونٹنیاں لے کر واپس لوٹے؟'' تو ہم نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے ہر ایک یہ پسند کرتا ہے۔'' فرمایا،'' تو تم میں سے کوئی صبح کے وقت مسجد میں کیوں نہیں جاتااورکتاب اللہ کی دو آیتیں سیکھتا یا تلاوت کرتاکہ یہ تمہارے حق میں دواونٹنیوں سے بہتر ہيں اور تین آیتیں تمہارے لئے تین اونٹنیوں سے بہتر ہيں اور چار آیتیں چاراونٹنیوں سے بہتر ہیں اورجتنی آیتیں سیکھے گا یاپڑھے گا اتنی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔''
(مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین ،باب فضل قرا ء ۃالقرآن ،رقم ۸۰۳، ص ۴۰۲)
(۱۰۸۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ