ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ بنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضرہوکر عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے سامنے مرنے تک جہاد کرتارہوں توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کے خیا ل میں کیا میرا رب عزوجل مجھے جنت میں داخل فرمادے گا؟اور کیا وہ مجھے کمترنہ جانے گا؟''فرمایا،'' ہاں۔'' اس نے عرض کیا،'' پھرمیں جہا د کیوں نہ کر وں جبکہ مجھ جیسا بدبودار ،سیاہ رنگ اور خاندان کا کم ترین فرد بھی جنت میں داخل ہو گا۔'' پھر وہ چلا گیا اور قتال کرتے کرتے شہید ہوگیا ۔جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب سے گزرے تو فرمایا،'' اے جِعال! اب اللہ عزوجل نے تیری بو کو پاکیزہ کردیا اور تیراچہرہ روشن کردیا۔ ''
(۱۰۷۴)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمافرماتے ہیں کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ایک اعرابی کے خیمے کے قریب سے گزرے جبکہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جنگ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔اس اعرابی نے خیمے کا گو شہ اٹھا کرپوچھا،''کون لوگ ہیں ؟ ''کہاگیا،'' رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور ان کے صحابہ علیہم الرضوان ہیں جو کہ جنگ کا ارادہ رکھتے ہیں ۔''اعرابی نے پوچھا،'' کیا دنیا کامال بھی پائیں گے؟''جواب دیاگیا ، ''ہاں! غنیمت پائیں گے پھر انہیں مسلمانوں میں تقسیم کردیا جائے گا ۔''یہ سن کر وہ اعرابی صحابی رضی اللہ عنہ اپنے اونٹ کی طرف بڑھے اور اسے رسی سے باندھ کر ان کے ساتھ چل پڑے۔
وہ اپنے اونٹ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے قریب کرنے لگے، جبکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اس کے اونٹ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم سے دورکرتے رہے تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' اس ذات پاک کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ،یہ جنت کے بادشاہوں میں سے ہے۔'' پھر جب دشمنوں کےساتھ مقابلہ ہواتویہ اعرابی صحابی رضی اللہ عنہ جنگ کرتے کرتے شہید ہوگئے ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو ان کی شہادت کی خبر دی گئی تو آ پ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ان کی میت پر تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اورخوشی سے مسکرانے لگے، پھر اپنا رخِ انور دوسری طرف پھیر لیا تو ہم نے عرض کیا ،ـ'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم کو خوشی سے ہنستے ہوئے دیکھا پھرآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے اپنا چہرہ اقدس دوسری طرف کیوں پھیرلیا؟ ''فرمایا ،''میری خوشی اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اس کا مرتبہ دیکھنے