Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
382 - 736
وفعل میں کوئی تضاد نہ تھا، انہوں نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ،''اے لوگو! اللہ عزوجل کی ان نعمتوں کو یاد کرو جو تمہیں عطا کی گئیں ،ان سبز ، سرخ اور پیلی اشیاء اورقیام گاہوں میں غو ر کرو کہ اللہ عزوجل نے تمہیں کیسی کیسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔'' آپ رضی اللہ عنہ فرمایاکرتے تھے،'' جب لوگ نماز یا جنگ کے لئے صف بناتے ہیں تو آسمانو ں اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بندکردئیے جاتے ہیں اور حورِعین کو سنوار کر چھوڑ دیا جاتاہے ۔جب کوئی شخص جہاد میں پیش قدمی کرتاہے تو حورِعین کہتی ہیں ،''اے اللہ عزوجل! اس کی مددفرما۔''اور جب وہ پیچھے ہٹتاہے تو اس سے پردہ کرلیتی ہیں اور کہتی ہیں ، ''یا اللہ عزوجل! اس کی مغفرت فرما ۔'' 

    یہ سن کر لوگوں کے چہرے مرجھاگئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا،'' تم پر میرے ماں باپ قربان !حورعین کو غمزدہ نہ کرو کیونکہ جب مجاہد کے خون کا پہلا قطرہ گرتا ہے تو اس کے ہر گناہ کو مٹادیا جاتاہے تو حور عین میں سے اس کی دوبیویاں اس کے پاس اترتی ہیں اور اس کے چہرے سے مٹی ہٹاتے ہوئے کہتی ہیں ،'' ہم تمہارے لئے ہیں ۔'' اور وہ کہتا ہے،'' میں تمہارے لئے ہوں۔''پھر اسے سوحلّے پہنائے جاتے ہیں جو کہ کسی آدمی کے بنائے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ جنت کی پیداوار ہوتے ہیں،وہ ایسے نفیس ہوتے ہیں کہ اگر انہیں دوانگلیوں سے پکڑا جائے تو پکڑ میں آجائیں۔آپ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے بتایا گیا ہے ، '' تلواریں جنت کی کنجیاں ہیں۔ ''
     (طبرانی کبیر، حدیث یزید بن شجرۃ، رقم ۶۴۱ ،ج۲۲ ،ص ۲۴۶)
(۱۰۷۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہِ اقدس میں شہید کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا،'' شہید کے خون سے زمین خشک ہونے سے پہلے حورِ عین میں سے اس کی دوبیویاں اس طرح آتی ہیں جیسے ریگستا ن میں دودھ پلانے والی اونٹنیاں اپنے دودھ پینے والے بچے کو ڈھانپ لیتی ہیں، ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں جنت کا ایک ایسا جوڑا ہوتاہے جو دنیا اور اس کی ہر چیز سے بہترہے ۔''
     (ابن ماجہ ،کتاب الجہاد، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ، رقم ۲۷۹۸، ج۳ ،ص ۳۶۰)
(۱۰۷۳)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک حبشی صحابی رضی اللہ عنہ نے بارگاہِ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم میں حاضرہوکر عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک بدبودار اور بد صورت حبشی ہوں اور میرے پاس مال بالکل نہیں،اگر میں قتل ہونے تک ان مشرکین کے خلاف جنگ کروں تو میرا ٹھکانا کہاں ہوگا ؟''آپ نے ارشاد فرمایا،'' جنت میں۔'' تو وہ صحابی رضی اللہ عنہ شہید ہونے تک مشرکین  کے ساتھ قتال کرتے رہے۔پھر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ان کی میت پر تشریف لائے اور فرمایا،'' اللہ عزوجل نے تیراچہرہ روشن کردیا
Flag Counter