(۱۰۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' شہداء تین ہیں،پہلاوہ شخص جو راہِ خدا عزوجل میں اپنی جان ومال کے ساتھ قتل کرنے یا قتل ہونے کی بجائے صرف مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کرنے کے لئے نکلے،اگر وہ مر جائے یا قتل کردیا جائے تو اس کے تمام گناہ بخش دئیے جاتے ہیں اور اسے عذابِ قبر سے نجات دے دی جاتی ہے اور (قیامت کی) بڑی گھبراہٹ سے امن میں رکھاجائیگا اور حورعین سے اس کا نکاح کردیا جاتاہے اوراسے کرامت (بزرگی) کا حلہ پہنایا جائے گا اور اس کے سرپر جنت کا باوقارتاج رکھا جائے گا۔
دوسرا:وہ شخص جواپنی جان ومال کے ساتھ ثواب کی امیدپر قتل ہونے کی بجائے قتل کرنے کے ارادے سے جہاد کرے، اگر وہ مرجائے یا شہید کردیا جائے تو اس کی جگہ خلیل اللہ حضرتِ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مقامِ صدق میں عظیم طاقت والے بادشاہ کے حضور ہوگی ۔
تیسرا:وہ شخص جو راہِ خدا عزوجل میں اپنی جان ومال کے ذریعے ثواب کی امید پر مارنے اور مرنے کیلئے جہاد کرنے نکلے پھر مرجائے یا شہیدکردیا جائے وہ شخص قیامت کے دن علَی الاعلان اپنی تلوار کو اپنی گردن پر رکھے ہوئے آئے گا جبکہ لوگ گھٹنوں کے بل کھڑے ہونگے، وہ کہے گا ،''سنو!ہمارے لئے راستہ چھوڑ دو ہم نے اپنا خون اور اپنامال اللہ تبارک وتعالی کے لئے خرچ کیاہے ۔''رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں ،''اس ذات پاک کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر وہ یہ بات خلیل الرحمن حضرت ابراہیم علیہ السلام یا کسی نبی سے بھی کہے گا تو وہ بھی اس کا حق جانتے ہوئے اس کے لئے راستہ چھوڑ دیں گے۔'' پھر وہ شہداء عرش کے نیچے نور کے منبروں پر آکر بیٹھ جائیں گے اور دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کیسے فیصلہ کیا جاتاہے ،وہ نہ توموت کا غم پائیں گے، نہ برزخ میں خوفزدہ ہوں گے ،نہ ہی صور انہیں گھبراہٹ میں مبتلا کریگا اور نہ ہی حساب ومیزان اور صراط کاخو ف انہیں رنجیدہ کریگا،وہ دیکھیں گے کہ لوگوں کے درمیان کیا فیصلہ کیا جاتاہے ،وہ جو کچھ مانگیں گے انہیں عطا کیا جائیگا اوروہ جس کی سفارش کریں گے ان کی سفارش قبول کی جائے گی اور جنت کی جو چیز مانگیں گے انہیں عطاکردی جائے گی اور جنت میں جہاں چاہیں گے ٹھکانا بنالیں گے ۔''