Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
380 - 736
چھ انعام عطا فرماتاہے ،(۱)اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت فرمادیتا ہے اور جنت میں اسے اس کا ٹھکانا دکھا دیتا ہے (۲) اسے عذاب قبرسے محفوظ فرماتا ہے،(۳)قیامت کے دن اسے بڑی گھبراہٹ سے امن عطا فرمائے گا،(۴)اس کے سرپر وقار کا تاج رکھے گا جس کا یاقوت دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا، (۵) اس کا حوروں میں سے بہتّر(۷۲) حوروں کے ساتھ نکاح کرائے گا، (۶) اس کی ستّر رشتہ داروں کے حق میں شفاعت قبول فرمائے گا۔''
(ابن ماجہ، کتاب الجہاد، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ، رقم ۲۷۹۹ ،ج۳ ،ص ۳۶۰ )
(۱۰۶۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعُتبہ بن سُلَمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' مقتول تین طرح کے ہوتے ہیں ،پہلا : وہ مومن جو راہِ خدا عزوجلَّ میں اپنی جان ومال سے جہاد کرے، جب اس کا دشمن سے سامنا ہو تو وہ شہید ہوجانے تک ان کے ساتھ جنگ کرتارہے ، یہ کامیاب شہید ، عرش تلے اللہ عزوجل کی جنت میں ہوگا اس پر انبیاء صرف نبوت کے درجے کی فضیلت رکھتے ہونگے ۔

    دوسرا:وہ شخص جو گناہوں سے گھبرا کر اپنی جان ومال کے ساتھ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرے جب اس کا دشمن سے سامنا ہو تو وہ شہید ہونے تک ان کے ساتھ جنگ کرتا رہے تووہ ایسا نکھرا ہواشہید ہے جسکے گناہ اور خطائیں مٹادی جاتی ہیں کیونکہ تلوار گناہوں کو مٹانے والی ہے اورجنت کے آٹھ دروازے ہیں جس دروازے سے یہ چاہے گا داخل ہوگا جبکہ جہنم کے سات دروازے ہیں جن میں سے بعض دروازے بعض سے زیادہ عذاب والے ہیں۔

    تیسرامقتول:وہ منافق شخص جو اپنی جان ومال سے اللہ عزوجل کی راہ میں قتل ہونے تک جہاد کرے مگروہ جہنم میں ہے کیونکہ تلوارنفاق کو نہیں مٹاتی۔''
(شعب الایمان ،باب فی الجہاد ، رقم ۴۲۶۱ ، ج ۴ ، ص ۲۸)
(۱۰۶۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' شہداء چارہیں،ایک : پختہ ایما ن والا مومن کہ جب دشمن کاسامنا کرے تو قتل ہوجانے تک اللہ عزوجل کی تصدیق کرتا رہے، یہ وہی ہے جس کی طرف لوگ قیامت کے دن اس طرح اپنی آنکھیں اٹھا کر دیکھیں گے ۔'' اپنے سر کواس قدر بلند کیا کہ آپ کی ٹوپی گر گئی (راوی کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی ٹوپی گرنا مراد ہے یا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی مبارک ٹوپی) پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا، '' دوسرا:وہ کامل مومن جو دشمن کا سامنا بزدلی سے کرے پھر ایک گمنام تیرا سے ہلاک کردے تووہ دوسرے درجے میں ہے ،اورتیسرا :وہ مومن شخص جس کے عمل اچھے بھی ہوں اور برے بھی ،وہ دشمن سے مقابلہ کرے اور قتل ہونے تک اللہ عزوجل کی تصدیق کرتارہے تو وہ
Flag Counter