| جنت میں لے جانے والے اعمال |
تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ ہمارارب تبارک وتعالیٰ اس شخص سے خوش ہوتاہے جس کے ساتھی راہِ خدا عزوجل میں جہاد کرتے ہوئے شکست کھا جائیں اوروہ شخص اپنی ذمہ داری کو پہچانے اوراپنا خون بہہ جا نے تک لڑتارہے تو اللہ عزوجل اپنے ملائکہ سے فرماتاہے کہ ''میرے اس بندے کی طرف دیکھو جو میرے انعامات میں رغبت اور میرے خوف سے لوٹ آیا یہاں تک کہ اس کا خون بہادیا گیا۔''
(ابو داؤد، کتاب الجہاد ،باب فی الرجل یشتری نفسہ، رقم ۲۵۳۶ ،ج۳، ص ۲۷)
(۱۰۶۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' جب بندے حساب کے لئے کھڑے ہوں گے تو ایک قوم اپنی تلوار یں اپنی گردنوں پررکھے ہوئے آئے گی جن سے خون بہہ رہا ہوگا اور جنت کے دروازے پر آکر بھیڑ کر دے گی۔ پوچھا جائے گا '' یہ کون ہیں؟'' جواب دیاجائے گا،'' یہ شہداء ہیں جو زندہ تھے اور رزق دئیے جاتے تھے۔''
(المعجم الاوسط لطبرانی من اسمہ احمد، رقم ۱۹۹۸ ،ج۱ ،ص ۵۴۲)
(۱۰۶۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلی اللہ تعالی علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا،'' شہداء جنت کے دروازے پر ایک نہر کے کنا رے ایک سبز گنبد میں رہتے ہیں اور صبح وشام جنت سے ان کے لئے رزق بھیجا جاتا ہے۔''
(مسند احمد بن حنبل، مسند عبداللہ ابن عباس بن عبد المطلب ، رقم ۲۳۹۰ ،ج ۱ ص ۵۷۱)
(۱۰۶۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' شہید اپنے گھر والوں میں سے ستّر(۷۰) افراد کی شفاعت کریگا ۔''
(ابو داؤد ،کتاب الجہاد، باب فی الشھید یشفع، رقم ۲۵۲۲ ،ج۳ ،ص ۲۲)
(۱۰۶۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعُبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' بیشک شہید کے لئے اللہ عزوجل کے پاس سات انعام ہیں (۱) اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی بخشش ہوجاتی ہے اوراسے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیاجاتا ہے(۲) اسے ایمان کاجوڑا پہنایا جاتاہے، (۳)اسے عذاب قبر سے نجات دی جاتی ہے،(۴)اسے قیامت کے دن کی بڑی گھبراہٹ سے امن میں رکھا جائے گا،(۵) اس کے سرپر وقار کا تاج سجایا جائے گا، جس کا یا قوت دنیا اور اس کی ہرچیز سے بہتر ہو گا ،(۶) اس کا بہتّر(۷۲) حوروں کے ساتھ نکاح کرا یا جائے گا، (۷) ستّر رشتہ داروں کے حق میں اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔''
(التر غیب والترہیب ،کتاب الجہاد ،باب التر غیب فی الشھاد ۃ ، رقم ۲۷،ج۲ ، ص ۲۱۰)
(۱۰۶۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنامِقدام بن مَعدِی کَرِبَ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک اللہ عزوجل شہیدکو