Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
378 - 736
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوَاتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ﴿169﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔''(پ 4 ، آل عمران: 169)

    تو انہوں نے فرمایا ،''ہم نے جب رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے اس کے بارے میں سوال کیا تھاتوآپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کی روحیں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہیں، ان کے گھونسلے عرش سے معلق ہیں،وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں پھر ان قندیلوں میں لوٹ آتے ہیں، پھر ان کا رب عزوجل ان پر تَجَلِّی فرماتاہے اور ارشاد فرماتاہے،'' کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے؟'' وہ عرض کرتے ہیں،''ہمیں کس چیز کی خواہش ہو گی جبکہ ہم جنت میں جہاں چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں۔''اللہ عزوجل تین مرتبہ یہی فرماتاہے کہ ''کوئی خواہش ہے ؟''جب وہ جان لیتے ہیں کہ ہمارے لئے کچھ مانگے بغیر چارہ نہیں تو عرض کرتے ہیں ،''یا رب عزوجل !ہم چاہتے ہیں کہ تو ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹادے تاکہ ہم ایک مرتبہ پھر تیری راہ میں قتل کئے جائیں۔'' جب اللہ عزوجل دیکھتاہے کہ انہیں کوئی حاجت نہیں تو انہیں چھوڑ دیتاہے۔''
(مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب بیان ارواح الشھداء فی الجنۃ، رقم ۱۸۸۷، ص ۱۰۴۷)
(۱۰۶۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناکعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک شہداء کی روحیں جنت میں سبز پرندوں کے پیٹ میں ہیں جو جنت کے پھلوں یا جنت کے درختوں میں سے کھاتی ہیں۔''
   (التر غیب والترہیب ،کتاب الجہاد ، باب التر غیب فی الشھادۃ ، رقم ۱۸ ،ج ۲ ، ص ۲۰۷)
(۱۰۶۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' جب تمہارے بھائی شہید ہو ئے تو اللہ عزوجل نے ان کی روحوں کو سبز پرندوں کے پیٹ میں رکھ دیا جو جنت کی نہروں پر آکراس کے پھل کھاتی ہیں اور عرش کے سائے میں معلق سونے کی قندیلوں میں پناہ گزیں ہوجاتی ہیں۔جب ان لوگوں نے اپنے کھانے اور پینے کی پاکیزگی کو دیکھا تو کہا کہ ہمارے بھائیوں تک ہمارا یہ پیغام کون پہنچائے گاکہ ہم جنت میں زندہ ہیں اور ہمیں رزق دیا جاتا ہے تاکہ وہ جہاد سے کنارہ کشی نہ کریں اور جنگ سے اجتناب نہ کریں تو اللہ عزوجل نے فرمایا،'' میں تمہارا پیغام پہنچاؤں گا پھر اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوَاتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ﴿169﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔(پ 4 ، آل عمران: 169)
(ابوداؤد، کتاب الجہاد ،باب فی فضل الشھادۃ ،رقم ۲۵۲۰ ،ج۳، ص ۲۲)
(۱۰۶۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے
Flag Counter