Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
377 - 736
امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں حاضرہوئیں اور عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مجھے حارثہ کے بارے میں بتائیں گے ؟ (وہ غزو ۂ بدر میں شہید ہوگئے تھے)کہ اگر وہ جنت میں ہیں تو میں صبر کرلوں گی اور اگر کہیں اور ہیں تومیں ان کی حالت پر خوب روؤں گی۔'' تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، ''اے حارثہ کی ماں !وہ جنت میں ایک سرسبزو شا داب با غ میں ہے اور فردوس اعلیٰ میں پہنچ گیا ہے ۔''
( بخاری ،کتاب الجہاد، باب من اتاہ سھم عرب فقتلہ، رقم۲۸۰۹، ج۲ ،ص۲۵۶)
(۱۰۵۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضرہوئے اور عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کچھ لوگوں کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ وہ ہمیں قرآن وسنت سکھائیں۔'' رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے انصارمیں سے ستر (۷۰) صحابہ کرام علیھم الرضوان کو جنہیں'' قراء '' کہا جاتا تھا ان کے ساتھ بھیج دیا،ان میں میرے ماموں حضرتِ سیدنا حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے، وہ قرآن پڑھتے اور رات کو سیکھنے کے لئے قرآن پاک کی تکرار کیا کرتے تھے اور دن میں پانی لاکر مسجد میں رکھتے اور لکڑیاں جمع کرکے بیچتے اور اس سے جو ملتا اس سے اہل صُفّہ اور فقراء کے لئے کھانا خرید لیاکرتے تھے ۔

    جب رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے قاریوں کی اس جماعت کو ان لوگوں کے ساتھ بھیجاتو ان لوگوں نے راستے میں ہی سازش کے تحت اس قافلہ والوں کو قتل کردیا۔ قاریوں کی اس جماعت نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کی، ''یاالٰہی عزوجل! ہماری حالتِ زارکی خبر ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تک پہنچادے،بیشک ہم تجھ سے ملاقات کرنے والے ہیں اورہم تجھ سے راضی ہیں اور تو ہم سے راضی ہوجا۔''ایک شخص میرے ماموں حضرتِ سیدنا حرام رضی اللہ عنہ کے پیچھے سے آیا اور اس نے اپنا نیزہ ان کے پیٹ میں گھونپ دیا تو حضرتِ سیدنا حرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ،''رب کَعْبْہ کی قسم ! میں کامیاب ہوگیا۔''

    ( اسی صورت حال کودوسری جانب) رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم بیان فرمارہے تھے ۔ آپ نے فرمایا کہ تمہارے بھائیوں کو قتل کردیا گیا اور انہوں نے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں دعا کی کہ'' اے اللہ عزوجل! ہماری حالتِ زار کی خبر ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم تک پہنچادے اوربیشک ہم تجھ سے ملاقات کرنے والے ہیں اور ہم تجھ سے راضی ہیں او ر تو ہم سے راضی ہوجا۔''
(مسلم ،کتاب الامارۃ، باب ثبو ت الجنۃ للشھید، رقم ۶۷۷۔۱۹۰۲، ص ۱۰۵۴)
(۱۰۵۹)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت مبارکہ کے بارے میں سوال کیا ،
Flag Counter