Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
376 - 736
الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اے عبد اللہ! تم خو ش نصیب ہو کہ تمہارے والد فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں اُڑتے ہیں ۔''
 ( مجمع الزوائد، کتاب المناقب ،باب مناقب جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ، رقم ۱۵۴۹۸، ج۹ ،ص ۴۴۴)
(۱۰۵۵)۔۔۔۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میرے والد صاحب کا مُثلہ کردیا گیا تھا (یعنی چہرہ بگاڑ دیا گیاتھا ) ،جب انہیں رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں لا کر آپ کے سامنے رکھاگیا تو میں نے ان کے چہرے سے چادر ہٹانا چاہی مگر میری قوم نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا۔پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کے چلانے کی آواز سنی،آپ سے عرض کیا گیا ،''یہ عمرو کی بیٹی یا بہن ہے۔'' تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،''یہ کیوں رو رہی ہے ؟'' یایہ فرمایا کہ '' اسے نہیں روناچاہیے کیونکہ فرشتے ان پر مسلسل اپنے پروں سے سایہ کئے ہوئے ہیں ۔''
(بخاری، کتاب الجہاد، باب ظل الملائکۃ علی الشھید، رقم ۲۸۱۶ ،ج۲ ،ص ۲۵۸)
(۱۰۵۶)۔۔۔۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ( یعنی میرے والد) غزوہ احد کے دن شہید ہوگئے تو رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مجھ سے فرمایا ،'' اے جابر ! کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اللہ عزوجل نے تمہارے باپ سے کیا فرمایا ہے ؟''میں نے عرض کیا ، ''ضروربتائیے۔''آپ نے ارشاد فرمایا،'' جب اللہ عزوجل کسی سے کلام فرماتا ہے توحجاب کے پیچھے سے کلام فرماتا ہے مگر اس نے تمہارے والد سے بغیر کسی حجاب وترجمان کے ہم کلام ہوکر فرمایا ،''اے عبد اللہ! مجھ سے مانگ میں تجھے عطافرماؤں گا۔'' تو تمہارے والد نے عرض کیا،'' یا رب عزوجل !مجھے دوبارہ زندگی عطا فرما تاکہ میں تیری راہ میں دوسری مرتبہ قتل کیا جاؤں۔'' تو اللہ عزوجل نے فرمایا کہ میرا یہ فیصلہ ہے
'' اَنَّہُمْ اِلَیۡنَا لَا یُرْجَعُوۡنَ ﴿۳۹﴾
 ترجمہ کنز الایمان: انہیں ہماری طر ف پھر نا نہیں۔''( پ ۲۰،القصص:۳۹)

    پھراس نے عرض کیا،'' مجھ سے پیچھے رہ جانے والوں تک یہ بات پہنچادے۔'' تو اللہ عزوجل نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی
وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ اَمْوَاتًا ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُوۡنَ ﴿169﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔''(پ 4 ، آل عمران: 169)
(ابن ماجہ ،کتاب الجہاد، باب فضل الشھادۃ فی سبیل اللہ، رقم ۲۸۰۰، ج۳ ،ص ۳۶۱)
(۱۰۵۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حارِثہ بن سُراقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ام ربیع بنت بَرَاء رضی اللہ عنہا خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و
Flag Counter