| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۰۵۲)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے چچا انس بن نَضْرغزوہ بدر میں حاضرنہ ہو سکے پھر انہوں نے شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکرعرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مشرکین کے ساتھ جو پہلا جہاد فرمایا تھا میں اس میں حاضر نہ ہوسکا تھا ،اگر اللہ عزوجل نے مجھے مشرکین کے ساتھ جہاد کا موقع دیا تو اللہ عزوجل دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں ۔''
پھر جب غزوہ احد کا موقع آیا اور مسلمان بھاگنے لگے تو رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے دعا کی'' اے اللہ عزوجل! میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے عمل پر معذرت خواہ ہوں اورمشرکین کے عمل سے براء ت چاہتا ہوں۔'' پھر آگے تشریف لے گئے توحضرتِ سیدنا سعد بن معاذرضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ان سے فرمایا'' اے سعد بن معاذ ! نضر کے رب کی قسم! میں جنت کی خو شبو احد کے قریب محسو س کررہا ہوں'' حضرتِ سیدنا سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ انہوں نے کیامیں اس کی حاجت نہیں رکھتا ۔''
حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ''ہم نے حضرتِ سیدنا انس بن نضر رضی اللہ عنہ کے جسم پر اسی سے زائد تلوار یا نیزہ یاتیر کے زخم پائے وہ شہیدہوچکے تھے اور مشرکین نے ان کا مُثلہ کردیا تھا (یعنی ان کا چہرہ بگاڑ دیا تھا) انہیں ان کی بہن کے علاوہ کوئینہ پہچان سکا ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کے پوروں سے انہیں پہچانا تھا ،ہماراخیا ل ہے کہ یہ آیت مبارکہ انہی کے بارے میں نازل ہوئی ''
مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ رِجَالٌ صَدَقُوۡا مَا عَاہَدُوا اللہَ عَلَیۡہِ ۚ فَمِنْہُمۡ مَّنۡ قَضٰی نَحْبَہٗ وَ مِنْہُمۡ مَّنۡ یَّنۡتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوۡا تَبْدِیۡلًا ﴿ۙ۲۳﴾
ترجمہ کنزالایمان :وہ مرد ہیں جنہو ں نے سچا کردیا جوعہد اللہ سے کیاتھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کر چکا اور کوئی راہ دیکھ رہا ہے اور وہ ذرانہ بدلے۔''(پ۲۱، الاحزاب: ۲۳)
(بخاری، کتاب الجہاد ،باب قول اللہ تعالی من المومنین رجال صدقو االخ ،رقم ۲۸۰۵ ،ج۲، ص ۲۵۵)
(۱۰۵۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' میں نے جعفر بن ابو طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک فرشتے کی صورت میں جنت میں اُڑتے ہوئے دیکھا ،ان کے دو پر تھے جن کے ذریعے وہ جہاں چاہتے اُڑ کر پہنچ جاتے اور ان کی ٹانگیں خون سے لتھڑی ہوئی تھیں۔''
(طبرانی کبیر ، رقم ۱۴۶۷ ، ج ۲ ، ص ۱۰۷)
وضاحت :
غزوہ موتہ کے موقع پر سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرتِ سیدنا زید بن حا رثہ رضی اللہ عنہ کو لشکر کا سالار مقر ر فرماکر ارشا د فرمایا تھا کہ'' اگر زید رضی اللہ عنہ کوشہید کردیا جائے تو جعفر رضی اللہ عنہ تمہارے سالار ہونگے اور اگر جعفر رضی اللہ عنہ شہید ہوگئے تو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ تمہارے سالار بنیں گے۔'' جنگ شروع ہوئی تو زید رضی اللہ عنہ نے عَلم(جھنڈے) کو تھام لیاجب وہ شہید ہوگئے تو حضرتِ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے دائیں ہاتھ سے عَلم کو تھاما، جب دایاں ہاتھ کٹ گیاتوبائیں ہاتھ سے عَلم پکڑ لیا،وہ ہاتھ بھی کٹ گیا توپھر آپ رضی اللہ عنہ کو شہید کردیا گیا۔
حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ،''جب ہم نے حضرتِ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کو تلا ش کیا تو انہیں مقتولین میں پایا ۔اُن کے جسم پرتلوار اور تیر کے نوے(۹۰) سے زائد زخم تھے۔ اللہ عزوجل نے شہدا ء کی طر ح انہیں زندہ اور رزق دئیے جانے والے لوگو ں میں شامل فرمالیا اور مزید جزا یہ عطا فرمائی کہ ان کے ہاتھوں کو پرو ں میں تبدیل فرمادیاجنکے ذریعے وہ جہاں چاہتے ہیں اُڑ کر پہنچ جاتے ہیں او رجنت کے پھلوں سے جو چاہتے ہیں کھا لیتے ہیں اسی لئے انہیں طیا ر( یعنی اُڑنے والا) کہاجاتاہے اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی حضرت سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرتِ سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کو سلام کرتے تو اس طر ح سلام کرتے ،اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بْنَ ذِی الْجَنَاحِیْن ۔
ترجمہ اے دوپروں والے باپ کے بیٹے! تم پر سلامتی ہو۔ (۱۰۵۴) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ