| جنت میں لے جانے والے اعمال |
مجھے راہِ خدا عزوجل میں قتل کردیا جائے تو آپ کا کیا خیا ل ہے کہ میرے گناہ معاف کردئیے جائیں گے ؟ ''تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' ہاں! اگرتمہیں اللہ عزوجل کی راہ میں قتل کردیا جائے جبکہ تم اس پر ثواب کی امید رکھتے ہوئے صبر کرو اور لڑائی کے دورا ن پیش قدمی کرو اور میدا ن جہاد سے فرار اختیار نہ کرو۔''
پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا ،'' ابھی تو نے کیا کہا تھا ؟ '' اس نے عرض کیا ،''اگر مجھے راہِ خدا عزوجل میں قتل کردیا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیا ل ہے کیا میرے گناہ معاف کردئیے جائیں گے ؟''آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''ہاں! اگر تم اس پر صبر کرواور میدانِ جہاد سے فرا ر اختیار نہ کرو تو قرض کے علاوہ تمہارے تمام گناہ معاف کردئیے جائیں گے، مجھے جبر ائیل علیہ السلام نے یہی بتایا ہے۔''(مسلم ،کتاب الامارۃ، باب من قتل فی سبیل اللہ الخ، رقم ۱۸۸۵ ،ص ۱۰۴۶)
(۱۰۴۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَردوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' قرض کے علاوہ شہید کے تمام گناہ معاف کردئیے جاتے ہیں ۔''
(مسلم، کتاب الامارۃ، باب من قتل فی سبیل اللہ الخ، رقم ۱۸۸۶،ص ۱۰۴۶)
(۱۰۵۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص لوہے کا لباس پہن کر سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضرہوا اور عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں جہاد کروں یا مسلمان ہوجاؤں ۔''آپ نے ارشاد فرمایا،'' پہلے مسلمان ہو جا ؤپھر جہاد کرو۔''چنانچہ وہ اسلام لے آیا پھر جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگیا تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،''اس نے عمل کم کیا اور ثواب زیادہ لے گیا۔''
(بخاری ،کتاب الجہاد، باب عمل صالح قبل القتال، رقم ۲۸۰۸ ،ج۲، ص ۲۵۶)
(۱۰۵۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا شدَّاد بن ہاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لایا اور آپ کی پیروی کی،پھر عرض کیا ،''میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہجرت کرنا چاہتاہوں۔'' تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے بعض صحا بہ کرام علیھم الرضوان کو ان کے بارے میں تاکید فرمادی۔ جب ایک جنگ کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو مالِ غنیمت حاصل ہوا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اسے تقسیم فرمایا اور اس اعرابی صحابی رضی اللہ عنہ کا حصہ صحابہ کرام علیھم الراضوان کودے دیا، وہ اعرابی صحابی رضی اللہ عنہ ان کے پیچھے پہرہ دیاکرتے تھے ۔ جب صحابہ علیھم الرضوان نے ان کا حصہ انہیں دیا توانہوں نے پوچھا،'' یہ کیا ہے ؟'' صحابہ کرام علیھم الرضوان نے فرمایا،'' یہ تمہارا حصہ ہے ،جو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے عطافرمایا ہے۔''