| جنت میں لے جانے والے اعمال |
عطا فرماتا ہے مجھے بھی عطا فرما ۔'' جب رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز مکمل فرمالی تو دریافت فرمایا،'' ابھی کس نے کلام کیا تھا؟''اس شخص نے عرض کیا ، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے۔'' توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' پھر تو تمہاری ٹانگیں کاٹ دی جائیں گی اور تمہیں شہید کردیا جائے گا(یعنی یہی افضل شے ہے )۔''
(المستدرک ،کتاب الجہاد ،باب قفلۃ کغزوۃ ، رقم ۲۴۴۹ ، ج ۲ ، ص ۳۹۲)
(۱۰۴۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' شہید کو قتل ہوتے وقت اتنی ہی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چٹکی کی تکلیف ہوتی ہے ۔''
(تر مذی ،کتاب فضائل الجہاد،باب ماجاء فی فضل المرابط ، رقم ۱۶۷۴ ، ج ۳ ، ص ۲۵۲)
(۱۰۴۵) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''جنت میں داخل ہونے کے بعد شہید کے سوا کوئی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اسے دنیا میں لوٹایا جائے اور اس کے ساتھ وہی سلوک کیاجائے جو دنیا میں کیا جاتا تھامگر شہید شہادت کی فضیلت اور کرامت دیکھتے ہوئے تمناکرتا ہے کہ اسے دنیا میں لوٹایا جائے اوراسے دس مرتبہ قتل کیا جائے۔''
(بخاری، کتاب الجہاد، باب تمنی المجاھد الخ ،رقم ۲۸۱۷ ،ج۲ ،ص ۲۵۹)
(۱۰۴۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناانس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' اہلِ جنت میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو اللہ عزوجل اس سے فرمائے گا،'' تو نے اپنے مسکن کو کیسا پایا ؟''وہ عرض کریگا، ''سب سے بہتر ۔'' پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا،'' کچھ اور مانگ ،کوئی اورتمنا کر۔''تو وہ عرض کریگا ،''میں کیا مانگوں اور کس چیز کی تمنا کروں؟'' پھر وہ شہا دت کی فضیلت دیکھتے ہوئے عرض کریگا،'' بس! میں تجھ سے یہ سوال کرتاہوں کہ مجھے دنیا میں واپس بھیج دے تاکہ مجھے تیری راہ میں دس مرتبہ قتل کیا جائے۔''
(المستدرک ،کتاب الجہاد ، باب الجہاد یذھب اللہ بہ الھم و الغم ،رقم ۴۵۲ ۲ ، ج ۲ ، ص ۹۳ ۳)
(۱۰۴۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اس ذات پاک کی قسم! جس کے دستِ قدرت میں محمد (صلي اللہ عليہ وسلم )کی جان ہے ،میں چاہتا ہوں کہ راہ خدا میں جہاد کروں اور شہید کردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہیدکردیا جاؤں پھر جہاد کروں پھر شہیدکردیا جاؤں ۔''
(مسلم، کتاب الامارۃ ،با ب فضل الجہاد والخرو ج فی سبیل اللہ ،رقم ۱۸۷۶ ،ص ۱۰۴۲)
(۱۰۴۸)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے خطبہ کے دوران ارشاد فرمایا،'' اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنااور اللہ عزوجل پر ایمان لانا سب سے افضل عمل ہیں۔''ایک شخص نے کھڑے ہوکر عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !اگر