| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(4) وَ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللہِ فَلَنۡ یُّضِلَّ اَعْمَالَہُمْ ﴿4﴾سَیَہۡدِیۡہِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَہُمْ ۚ﴿5﴾وَ یُدْخِلُہُمُ الْجَنَّۃَ عَرَّفَہَا لَہُمْ ﴿6﴾
ترجمہ کنزالایمان :اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے اللہ ہر گز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا جلد انہیں راہ دے گا اور ان کاکام بنادے گا اورانہیں جنت میں لے جائے گا انہیں اس کی پہچان کرادی ہے۔''( پ 26، محمد: 4تا6 )
اس بارے میں احادیث ِمقدسہ :
(۱۰۳۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناسمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ گزشتہ رات میں نے دیکھا کہ دوشخص میرے پاس آئے اور مجھے ساتھ لے کر ایک درخت کے اوپر چڑھ گئے اور مجھے ایک بہت خوبصورت اورفضیلت والے گھر میں داخل کردیا،میں نے اس جیسا گھر کبھی نہیں دیکھا پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ ''یہ شہداء کا گھر ہے ۔''
(بخاری، کتاب الجہاد،باب درجات المجاھدین فی سبیل اللہ ،رقم ۲۷۹۱ ،ج۲ ،ص ۲۵۱)
(۱۰۴۰)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ،'یا رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم !سب سے افضل جہا دکون سا ہے ؟'' فرمایا، ''جس میں تیری ٹانگیں کاٹ دی جائیں اور تیرا خون بہادیا جائے
( الا حسان بتر تیب ابن حبان، کتاب السیر ، باب فضل الجہاد ، رقم ۴۶۲۰، ج۷، ص ۷۴)
(۱۰۴۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''کیا میں تمہیں سب سے زیادہ جودوکرم والے کے بارے میں خبر نہ دوں ؟''(پھر فرمایا)،'' اللہ عزوجل سب سے زیادہ جودوکرم والا ہے اور میں اولادِ آدم علیہ السلام میں سب سے زیادہ سخی ہوں اور میرے بعدسب سے زیادہ سخی وہ شخص ہے جو علم حاصل کرے پھر اپنے علم کو پھیلائے ،اسے قیامت کے دن ایک امت کے طور پر اٹھایا جائے گا اور دوسرا وہ شخص ہے جو اللہ عزوجل کی رضا کے حصول کے لئے اپنے آپ کووقف کردے یہاں تک کہ اسے شہید کردیا جائے۔''
(ابویعلی ، مسند انس بن مالک ، رقم ۲۷۸۲ ، ج ۳ ، ص ۱۶)
(۱۰۴۲)۔۔۔۔۔۔ حضرت سیدنا راشد بن سعد رضی اللہ عنہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم!کیا وجہ ہے کہ قبر میں سب مسلمانوں کا امتحان ہوتا ہے لیکن شہید کا نہیں ہوتا؟'' ارشاد فرمایا،'' اس کے سر پر تلواروں کی بجلی گرناہی اس کے امتحان کے لئے کافی ہے۔''
(نسائی ،کتاب الجنائز، باب الشھید، ج۴، ص ۹۹)
(۱۰۴۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نماز پڑھارہے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نماز کیلئے آیا اور صف میں پہنچ کر کہنے لگا،'' اے اللہ عزوجل! تو اپنے نیک بندوں کو جو سب سے افضل شے