| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۰۳۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اللہ عزوجل کے نزدیک کوئی شے دوقطروں اور دوقدموں سے زیادہ پسندیدہ نہیں،وہ دو قطرے جو پسندیدہ ہیں (۱)اللہ کے خوف سے بہنے والے آنسو کا قطرہ اور(۲) راہ خدا عزوجل میں بہائے جانے والے خون کا قطرہ اور وہ دو قدم جواللہ عزوجل کے پسندیدہ ہیں ان میں سے ایک اللہ عزوجل کی راہ میں چلنے والا قدم اوردوسرا اللہ عزوجل کے فرائض میں سے کسی فرض کی ادائیگی کے لئے چلنے والا قدم ہے۔''
(ترمذی ،کتا ب فضائل الجہاد، باب ماجاء فی فضل المرابط ،رقم ۱۶۷۵ ،ج۳ ،ص ۲۵۳)
(۱۰۳۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' جو شخص صرف اللہ عزوجل کی راہ میں جہا د کی نیت سے گھر سے نکلتاہے تو اللہ عزوجل اس کاضامن ہوتاہے کہ اسے میری راہ میں جہاد کے جذبے ، مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے نکالا ہے ۔ چنانچہ اللہ عزوجل اسے ضمانت دیتاہے کہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا یا اسے اس کے حاصل کردہ ثواب یا غنیمت کے ساتھ اس کے گھر واپس لوٹا ئے گا۔''
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا،'' اس ذاتِ پاک کی قسم ،جس کے دست قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے!جب راہِ خدا عزوجل میں لگنے والے زخم کو قیامت کے دن لایاجائے گا تو اس کا رنگ خو ن جیسا اور بو مشک جیسی ہوگی اور اس ذا ت پاک کی قسم جس کے دست قد رت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! اگر مجھے مسلمانو ں کے مشقت میں پڑجانے کا خو ف نہ ہوتا تو میں راہ خدا عزوجل میں لڑی جانے والی ایک جنگ کے بعد دوسری سے ہرگز نہ بیٹھتا مگر میں وسعت نہیں پاتا کہ انہیں اس بات پر آمادہ کروں اور نہ ہی وہ اس کی وسعت پاتے ہیں اور مجھ سے پیچھے رہ جانا بھی انہیں گراں گزرتا ہے، اس ذات پاک کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے ،میں چاہتا ہوں کہ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کر وں اور شہید ہوجاؤں پھر جہاد کروں پھر شہید ہوجاؤ ں پھر جہاد کرو ں پھر شہید ہوجاؤں۔''(مسلم، کتاب الامارۃ، باب فضل الجہاد والخروج فی سبیل اللہ ، رقم ۱۸۷۶، ص ۱۰۴۲)
(۱۰۳۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''راہِ خدا عزوجل میں زخمی ہونے والا قیامت