(2) وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیۡۤ اَمْرِنَا وَثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَانۡصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکٰفِرِیۡنَ ﴿147﴾فَاٰتٰىہُمُ اللہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَاللہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیۡنَ ﴿148﴾٪
ترجمہ کنزالایمان :اور وہ کچھ بھی نہ کہتے تھے سوااس دعا کے کہ اے ہمارے رب! بخش دے ہمارے گناہ اور جو زیادتیاں ہم نے اپنے کام میں کیں اور ہمارے قدم جمادے اورہمیں ان کافر لوگو ں پر مد د دے تو اللہ نے انہیں دنیا کاانعام دیا اور آخرت کے ثواب کی خوبی اور نیکی والے اللہ کو پیارے ہیں۔( پ 4،آل عمران :147، 148)
اس بارے میں احادیث مبارکہ :
(۱۰۳۲) ۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سہل بن سعدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' دو ساعتیں ایسی ہیں جن میں آسمانوں کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور مانگنے والے کی دعا بہت کم رد ہوتی ہے (۱)اذان کے وقت اور (۲)راہِ خدا عزوجل میں صف باندھنے کے وقت ۔''
ایک روایت میں ہے کہ اذان اور جنگ کے دوران دشمنوں پر حملہ کرتے وقت کی جانے والی دعا ردنہیں کی جاتی ۔
(ابوداؤد ،کتاب الجہاد ، باب الدعاء عند اللقاء ،رقم ۲۵۴۰ ، ج ۳ ،ص۲۹)
جبکہ ایک روایت میں ہے کہ نماز کی اقامت اور اللہ عزوجل کی راہ میں صف بندی کرتے وقت کی جانے والی دعامانگنے والے پرلوٹائی نہیں جاتی ۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ ، رقم ۱۷۶۱ ، ج ۳ ،ص ۱۲۸)