اس بارے میں احادیث کریمہ :
(۱۰۲۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' راہِ خدا عزوجل میں صف باندھ کر کھڑاہونا اللہ عزوجل کے نزدیک بندے کی ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے۔''
(المستدرک، کتاب الجہاد ،باب مقام احدکم فی سبیل اللہ افضل من صلاتہ ..الخ ،رقم ۲۴۳۰،ج۲، ص ۳۸۵ )
(۱۰۳۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ ایک ایسی گھاٹی کے قریب سے گزرے جہاں میٹھے پانی کا ایک چشمہ بہہ رہا تھا ۔ انہیں وہ جگہ پسند آگئی اور وہ کہنے لگے،'' اگر میں نے لوگوں سے کنارہ کشی کی تو اسی گھاٹی میں قیام کروں گا لیکن جب تک رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے اجازت نہ لے لوں لوگوں سے ہرگز کنارہ کشی نہ کروں گا۔''
جب انہوں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، ''تم ہرگز ایسا مت کرنا، کیونکہ تم میں سے کسی شخص کا اللہ عزوجل کی راہ میں کھڑا ہونا اپنے گھر میں ساٹھ سال تک نماز پڑھنے سے افضل ہے، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ عزوجل تمہاری مغفرت فرمادے اورتمہیں جنت میں داخل فرمائے ؟اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرو کیونکہ جو شخص اللہ عزوجل کی راہ میں اونٹنی کودومرتبہ دوہنے کے درمیانی وقت کے برابر جہادکرتاہے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔''
(ترمذ ی،کتاب فضائل الجہاد، باب فضل ماجاء فی فضل الغدو... الخ،رقم ۱۶۵۶، ج۳، ص ۲۴۵)
(۱۰۳۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنامجاہد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک جنگ میں شریک تھے کہ اچانک لوگ پناہ کی تلاش میں گھبر ا کر ساحل ِسمند ر کی طرف دوڑے پھر جب بتایا گیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے تو لوگ واپس لوٹ آئے اور دیکھا کہ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہیں کھڑے تھے۔ ایک شخص نے عرض کیا،'' اے ابوہریرہ ! آپ یہیں کیوں کھڑے رہے ؟'' آپ نے جواب دیا،'' میں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عزوجل کی راہ میں ایک گھڑی کھڑا ہونا شبِ قدر میں حجراسود کے پاس قیام کرنے سے افضل ہے۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان، کتاب السیر ،باب فضل الجہاد ،رقم ۴۵۸۴، ج۷،ص ۶۱)