Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
363 - 736
مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''راہِ خدا عزوجل میں جہادکرنے والے کی مثال اس کے واپس آنے تک دن میں روزہ رکھنے اور رات میں قیام کرنے والے کی سی ہے ،وہ جب بھی واپس آئے ۔''
(مسنداحمد، حدیث نعما ن بن بشیر ،رقم ۱۸۴۲۹، ج۶، ص ۳۸۳)
(۱۰۲۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معا ذ بن اَنس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری زوجہ سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت میں حاضرہوئی اور عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میرے شوہر جہاد کے لئے چلے گئے حالانکہ میں نماز اور دیگر اعمال میں ان کی پیروی کیاکرتی تھی،لہذامجھے ایسا عمل بتائیے جو میں ان کی واپسی تک کرتی رہوں ۔'' آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،''کیاتم اس کی استطاعت رکھتی ہوکہ اس کے لوٹنے تک مسلسل نما ز ادا کرتی رہو اور اس میں سستی نہ کرو،روزے رکھتی رہو اور افطار نہ کرو(یعنی کوئی روزہ نہ چھوڑو)اور اللہ عزوجل کے ذکرمیں مشغول رہو اور اس میں سستی نہ کر و۔'' تو اس نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اس کی طاقت نہیں رکھتی ۔''فرمایا،'' اس ذات پاک کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے! اگر تمہیں اس کی طاقت مل بھی جائے پھر بھی تم اس کے عمل کے عشر عشیر کو نہیں پہنچ سکتی۔''
( مسند احمد، حدیث معا ذ بن انس الجھنی، رقم ۱۵۶۳۳،ج۵، ص ۳۱۲)
(۱۰۲۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوبکربن ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ میں نے اپنے والدگرامی کو فرماتے ہوئے سناکہ رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' بیشک جنت کے دروازے تلواروں کے سائے میں ہیں۔'' تو ایک خستہ حال بوسید ہ کپڑے پہنے ہوئے شخص نے کھڑ ے ہوکر عرض کیا،'' اے ابو موسیٰ! آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے ؟'' انہوں نے جواب دیا'' ہاں۔'' تو وہ شخص اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہنے لگا ، ''تم پر سلامتی ہو۔'' اور اپنی تلوار کی میان توڑکرپھینک دی ۔اس کے بعد تلوار لے کر دشمن پر حملہ آور ہوا اور لڑتے لڑتے شہید ہوگیا۔
(مسلم، کتاب الامارۃ ،باب ثبوت الجنۃللشھید، رقم ۱۹۰۲ ،ص ۱۰۵۳)
(۱۰۲۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اور آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم بدر کی جانب روانہ ہوئے اور مشرکین سے پہلے وہاں پہنچ گئے ۔ جب مشرکین وہاں پہنچے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا ، ''اس جنت کی طرف بڑھو جس کی چوڑائی زمین وآسمان جتنی ہے۔'' تو حضرتِ سیدنا عُمَیْربن حُمام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا ایک جنت کی چوڑائی زمین وآسمان جتنی ہے؟''فرمایا ،''ہاں۔'' وہ کہنے لگے،'' خوب بہت خوب ۔'' آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' تم نے بہت خوب کیوں کہا؟'' عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! خداعزوجل کی قسم! ایسی کوئی بات نہیں میں نے تویہ بات صرف اس امید پر کہی  کہ میں بھی جنت کا حق دارہوجاؤں ۔''
Flag Counter