Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
362 - 736
واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''ایک حج ادا کرنا چالیس غزوات میں شریک ہونے سے بہتر ہے اورایک غزوہ چالیس (نفلی) حج ادا کرنے سے بہتر ہے اور جس نے حجۃ الاسلام(یعنی فرض حج) اداکرلیا توغزوہ میں شریک ہونا اس کے لئے چالیس حج ادا کرنے سے بہتر ہے اور فرض حج ادا کرنا چالیس جنگوں میں شریک ہونے سے بہتر ہے۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الجہاد ،باب فضل الجہاد ،رقم ۹۴۴۰ ،ج۵ ، ص ۵۰۸)
    ایک روایت میں ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر بہت سے صحابہ کرام علیھم الرضوان نے سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے حج کے لئے اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' جو ایک مرتبہ حج  کرچکا ہے اس کے لئے ایک غز وہ میں شریک ہونا چالیس حج ادا کرنے سے بہتر ہے۔''
 (مراسیل ابی داؤد مع سنن ابی داؤد ، باب ماجاء فی الدواب ،ص۱۴)
(۱۰۲۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمرورضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے حج ادا نہیں کیا اس کیلئے حج ادا کرنا دس غزوات میں شریک ہونے سے بہتر ہے اور جو حج ادا کرچکا اس کیلئے ایک غزوہ میں شریک ہونا دس حج کرنے سے بہتر ہے۔''
 (طبرانی اوسط ، من اسمہ بکر ، رقم ۳۱۴۴ ، ج ۲ ،ص ۲۴۲)
(۱۰۲۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں عرض کیا گیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کون ساعمل راہ ِخدا عزوجل میں جہاد کے بر ابر ہے ؟''فرمایا،'' تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔''جب دویا تین مرتبہ یہی عرض کیا گیاتو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہی ارشادفرمایا کہ ''تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ''پھر فرمایا ،''اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال واپس لوٹنے تک اس روزہ دار اور رات کو قیام میں اللہ عزوجل کی آیتیں پڑھنے والے کی طرح ہے جو روزے اور نماز میں کوتاہی نہیں کرتا۔''
(مسلم ،کتاب الامارۃ ، باب فضل الشھاد ۃ فی سبیل اللہ تعالی ،رقم ۱۸۷۸ ، ص۱۰۴۴)
    ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا،'' مجھے ایسا عمل بتائیے جو اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے کے برابر ہو۔'' فرمایا ،''ایسا کوئی عمل نہیں ۔''پھر فرمایا،'' کیا تم اس کی استطاعت رکھتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لئے نکلے تو تم مسجد میں داخل ہوکر نماز ادا کرواوراس میں سستی نہ کرواور روزہ رکھو مگر افطار نہ کرو(یعنی کوئی روزہ نہ چھوڑو)۔'' اس نے عرض کیا ،''کون اس کی طاقت رکھ سکتاہے ؟''
 (بخاری ، کتاب الجہاد والسیر ،باب فضل الجہاد والسیر ، رقم ۲۷۸۵ ، ج۲ ، ص ۲۴۹)
     ایک روایت میں ہے کہ فرمایا،'' اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکرنے والے کی مثال (اور اللہ عزوجل اپنی راہ میں جہاد کرنے والوں کو خوب جانتاہے) دن کو روزہ رکھنے اوررات کو خشوع کے ساتھ قیام ، رکوع اورسجود کرنے والے کی طرح ہے۔''
(نسائی ،کتاب الجہاد ،باب مثل الجہاد فی سبیل اللہ عزوجل ،ج ۶، ص ۱۸ )
(۱۰۲۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و
Flag Counter