(۱۰۱۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن حبشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے سوال کیا گیا کہ'' کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟'' فرمایا،'' ایسا ایمان جس میں شک نہ ہو اورایسا جہاد جس میں بد دیانتی نہ ہو اور حج مبرور۔'' عرض کیا گیا ،''کون سا صدقہ افضل ہے؟ '' فرمایا،'' تنگد ست کاصدقہ۔'' پھر عرض کیا گیا،'' کون سی ہجرت افضل ہے؟'' فرمایا،'' اللہ عزوجل کی حرام کردہ اشیاء سے ہجرت کرنا۔''عرض کیا گیا ، ''کون سا جہاد افضل ہے ؟'' فرمایا،''اس شخص کا جس نے اپنی جان ومال سے مشرکین کے خلاف جہاد کیا۔''پھر عرض کیا گیا ،''کون سا مقتو ل عظمت والا ہے؟''فرمایا، ''جس کا خون بہایا جائے اور ٹانگیں کاٹ دی جائیں ۔''
(نسائی، کتاب الزکاۃ ،باب جھد المقل، ج۵، ص ۵۸)
(۱۰۱۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کیا کروکیونکہ اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس کے ذریعے اللہ عزوجل رنج و غم سے نجا ت عطافرماتاہے ۔''
(مسند احمد ،حدیث عبادہ بن صامت، رقم ۲۲۷۴۳، ج۸ ،ص ۳۹۵)
(۱۰۱۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا فضالہ بن عبیدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''میں کفیل ہوں(یعنی ضامن ہوں) اس کے لئے جو مجھ پر ایمان لائے ، میری اطاعت کرے اورہجرت کرے تو میں اسے جنت کے کنارے اور وسط میں ایک مکان کی ضمانت دیتا ہوں اور اس کا کفیل ہوں جو مجھ پر ایمان لائے اور اطاعت کرے اور جہاد کرے ، میں اسے جنت کے وسط اور جنت کے اعلیٰ مقام کے ایک گھر کی ضمانت دیتاہوں ۔''پھر فرمایا ،''جس نے ایسا کیا اس نے خیر کے لئے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی اورشر سے بچنے کا کوئی موقع نہ گنوایا ،اب وہ جہاں مرناچاہے مرجائے۔''
(نسائی ،کتاب الجہاد ،باب مالمن اسلم وھاجر وجاھد، ج۶، ص ۲۱)
(۱۰۱۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ