اس حدیث پاک اور اس کی مثل دیگراحادیث مبارکہ میں علماء کی جو فضیلت بیان کی گئی ہے اس سے مراد وہ عالم باعمل ہے جو اپنے علم کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا طلب گا ر ہو، جبکہ بے عمل عالم کو تو قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب ہو گااور جوعالمِ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے علم حاصل نہ کرے وہ جنت کی خوشبو تک نہ سونگھ سکے گا اور وہ ان تین بد نصیبوں میں سے ایک ہوگا جنہیں سب سے پہلے جہنم میں جلایا جائے گا اس باب میں بہت سی صحیح احادیث آئی ہیں لیکن چونکہ ہماری یہ کتاب اعمال کے ثواب پر مشتمل ہے لہٰذا انہیں یہاں بیان نہیں کیا گیا ۔
حضرتِ سیدنا فرقد سبخی علیہ الرحمۃنے حضرتِ سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا توآپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کا جواب دے دیا تو سیدنافرقد علیہ الرحمۃنے کہا کہ'' فقہا ء تواس معاملے میں آپ کی مخالفت کرتے ہیں؟'' توحضرتِ سیدنا حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا،'' تیری ماں تجھے روئے! کیا تونے کبھی اپنی آنکھوں سے کسی فقیہ کو دیکھا ہے؟ فقیہ تو وہ ہوتا ہے جو دنیامیں زہد اختیار کرے ، آخرت میں رغبت کرے ، دین میں بصیرت رکھے ، اپنے رب عزوجل کی عبادت پر ہمیشگی اختیارکر ے، مسلمانوں کی عزت و آبرو کے معاملہ میں کمال درجہ پرہیز گار ہو، ان کے مال کے معاملہ میں پاکدامن ہو ، ان کی جماعت کا خیرخواہ ہو اور توفیق دینے والاتو اللہ عزوجل ہی ہے جس کے علاوہ کوئی پروردگار نہیں۔ ''
(۱۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' عالم کو عابد پر ستر درجہ فضیلت حاصل ہے اوران میں سے ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا تیز رفتار گھوڑے کی سترسال دوڑکا سفر ہے۔''