(۱۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو ہریر ہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہو ئے سنا کہ'' اللہ عزوجل کے ذکر ، اس کی پسندیدہ چیزوں نیز عالم اور علم سیکھنے والے کے علاوہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے سب ملعون ہے۔''
(سنن ابن ماجہ ، کتاب الزھد ، با ب مثل الدنیا، رقم ۴۱۱۲، ج ۴، ص ۴۲۸)
(۱۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنَس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں كہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا'' بیشک زمین پر علماء کی مثال ان ستاروں کی طرح ہے جن سے بحروبر کی تاریکیوں میں رہنمائی حاصل کی جاتی ہے تو جب ستارے ماند پڑجائیں تو قریب ہے کہ ہدایت یافتہ لوگ گمراہ ہوجائیں۔''
(مسند احمد، مسند انس بن مالک ،رقم ۱۲۶۰۰، ج ۴، ص ۳۱۴)
(۱۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو اُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں دو آدمیوں کا تذکرہ ہوا جن میں سے ایک عابد تھا اور دوسرا عالم،تو رسول ِاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ''عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت تم میں سے ادنیٰ شخص پرہے ۔'' پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ''بیشک اللہ عز وجل اور اس کے فرشتے اور زمین وآسمان والے یہاں تک کہ سوراخوں میں چیونٹیاں اور سمندر میں مچھلیاں لوگوں کو خیر سکھانے والوں کی بھلائی کی خواہاں ہیں ۔''
(ترمذی ، کتاب العلم ، باب فضل الفقہ علی العبادۃ ، رقم ۲۶۹۴ ،ج۴ ،ص ۳۱۳)
(۱۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' قیامت کے دن عالم اور عبادت گزار کواٹھایا جائے گا تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ جبکہ عالم سے کہا جائے گا کہ جب تک لوگوں کی شفاعت نہ کرلو ٹھہرے رہو۔''
(الترغیب والترہیب ، کتاب العلم ،الترغیب فی العلم ،،رقم ۳۴ ،ج ۱، ص ۵۷)
(۱۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ثَعْلَبَہ بن حَکَم رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا فیصلہ کرنے کیلئے جب قیامت کے دن کرسی پر قعود فرمائے گا(جیساکہ) اسکی شان کے لائق ہے ،تو علماء سے فرمائے گا کہ ''بیشک میں نے اپناعلم اور حلم تمہیں اسی لئے دیاتھاتاکہ تمہاری خطاؤں کو معاف فرمادوں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔ ''
(طبرانی کبیر ، رقم ۱۳۸۱، ج ۲، ص ۸۴)
(۱۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا