| جنت میں لے جانے والے اعمال |
لے جائے پھر مر جائے یا شہیدکردیا جائے ۔''پھر فرمایا ،''کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ اس کے بعد کس کامرتبہ ہے؟ ''ہم نے عرض کیا ،''ضرور بتائیے۔ ''فرمایا،''اس شخص کاجو لوگوں سے کنارہ کش ہو کر کسی گھاٹی میں نماز پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے اور لوگوں کے شر سے بچتارہے ۔''پھر فرمایا ،''کیا میں تمہیں شریر ترین انسان کے بارے میں نہ بتاؤں ؟'' ہم نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ضرور بتائیے۔ ''ارشادفرمایا،''جس سے اللہ عزوجل کا واسطہ دیکر مانگا جائے اور وہ عطانہ کرے۔''
(نسائی ،کتا ب الزکاۃ، با ب من یسال با للہ ولایعطی بہ، ج۵، ص ۸۳)
(۱۰۱۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں سوال کیا،'' سب سے افضل آدمی کون ہے؟'' فرمایا،'' وہ مومن جو اپنی جان اور مال کے ذریعے اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرے۔ ''عرض کیا گیا، ''پھر کون افضل ہے؟''فرمایا ،''وہ مومن جو کسی گھاٹی میں اللہ عزوجل کی عبادت کرے اور لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے ۔''
(مسلم ،کتاب الامارۃ ، باب فضل الجہاد والرباط ،رقم ۱۸۸۸ ، ص ۱۰۴۷)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی با رگا ہ میں سوال کیا گیاکہ '' کامل ترین مومن کون ہے ؟''فرمایا،'' وہ جو اپنی جان اور مال کے ذریعے اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرے۔''
(المستدرک ،کتاب الجہاد ، باب ای المومنین اکمل ایمانا ، رقم ۶۴۳۷ ، ج۶ ، ص ۳۸۷)
(۱۰۱۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اللہ عزوجل کے نزدیک سب سے افضل عمل وہ ایمان ہے جس میں شک نہ ہو اور وہ جہاد ہے جس میں بددیانتی اور خیانت نہ ہو اور حج مبرور ہے۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ، کتاب السیر ،باب فضل الجہاد ،رقم ۴۵۷۸، ج۷، ص ۵۹)
(۱۰۱۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''بے شک اللہ عزوجل نے جنت میں راہِ خدا عزوجل میں جہاد کرنے والوں کے لئے سو درجے تیارکئے ہیں جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان زمین وآسمان جتنا فاصلہ ہے۔''
(بخاری، کتا ب الجہاد ،با ب درجات المجاھدین الخ، رقم ۲۷۹۰ ،ج۲، ص ۲۵۰)
(۱۰۱۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد خُدْرِی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو اللہ عزوجل کے رب ہونے ، اسلام کے دین ہونے اور محمد( صلی اللہ علیہ وسلم )