| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۱۰۰۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے سوال کیا،'' کون سا مجاہد سب سے زیادہ ثواب کا حقدار ہے ؟'' فرمایا ،''جو سب سے زیادہ اللہ عزوجل کا ذکر کرنے والا ہو۔''
( مسند احمد، حدیث معا ذ بن انس الجھنی رقم ۱۵۶۱۴ ،ج۵ ،ص ۳۰۹)
(۱۰۰۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذبن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''راہِ خدا عزوجل میں ذکراللہ کی کثرت کرنے والے کے لئے خوشخبری ہے کہ اس کیلئے ہر کلمہ کے بدلے ستر ہزار نیکیاں ہیں اور ان میں سے ہر نیکی دس گنا ہے اوراس کے علاوہ اللہ عزوجل کے پاس اس کے لئے بہت کچھ ہے۔''
(طبرانی کبیر ،رقم ۱۴۳، ج۲۰، ص ۷۸)
(۱۰۰۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بارگاہ میں ایک ایسا گھوڑا پیش کیا گیا جس کا ہر قدم حد ِنگاہ پر پڑتاتھا۔پھر رحمتِ عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے سفر شروع کیا تو حضرتِ سیدنا جبرئیل علیہ السلام بھی آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ۔ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ایک ایسی قوم کے قریب سے گزرے جو ایک دن کاشت کاری کرتی اور اگلے دن فصل کاٹتی ،جب بھی وہ قوم فصل کاٹتی توفصل پہلے کی طرح لوٹ آتی۔ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا،'' اے جبرئیل !یہ کون لوگ ہیں ؟'' انہوں نے عرض کیا،'' یہ راہِ خدا عزوجل میں جہاد کرنے والے ہیں ،ان کی نیکیوں میں سات سوگنا اضافہ کردیاجاتا ہے اور یہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اللہ عزوجل انہیں اس کا بدلہ عطا فرمادیتا ہے۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب الایمان ، باب منہ فی الاسراء ،رقم ۲۳۵،ج ۱ ،ص ۲۳۶)
(۱۰۰۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا معاذبن انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے راہِ خدا عزوجل میں ایک ہزارآیتیں پڑھیں اس کا نام انبیاء ،صدیقین ، شہداء اور صالحین کے ساتھ لکھا جائے گا۔''
(المستدرک ،کتا ب الجہاد ،با ب انواع الرجال الخ، رقم ۲۴۸۸، ج۲ ،ص ۴۰۹)