Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
353 - 736
     اور ایک روایت میں ہے ،''جس نے تیر چلایا خواہ وہ نشانے پر لگے یا خطاہو اس کا یہ عمل ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔''
 (سنن ابن ماجہ ، کتاب الجہاد ، باب الرمی فی سبیل اللہ عزوجل ، رقم ۲۸۱۲،ج۳ ، ص ۳۶۸)
(۹۹۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے راہ خدا عزوجل میں ایک تیر چلا یا وہ تیر قیامت کے دن اس کیلئے نورہوگا۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب الجہاد ، باب فیمن رمی بسھم ، رقم ۹۳۹۸، ج۵، ص۴۹۲)
(۹۹۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنامحمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدناابوعمروانصاری رضی اللہ تعالی عنہ جو کہ غزوہ بدر، عَقْبَہ اور احدمیں شریک ہوئے روزے کی حالت میں پیاس سے بل کھاتے ہوئے دیکھا کہ وہ اپنے غلام سے فرمارہے تھے کہ''دیکھتے کیا ہو!مجھے زرہ پہنا دو۔'' تو غلام نے انہیں زرہ پہنادی ۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے کمزوری کی حالت میں تیر نکالے اورتین تیرچلائے ۔

    پھرکہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ'' جس نے راہِ خداعزوجل میں ایک تیر چلایا اوروہ تیرراستے میں گر گیا یا نشانے پر لگا تووہ تیر اس کے لئے قیامت کے دن نورہوگا۔''پھر آپ رضی اللہ عنہ غروب آفتا ب سے پہلے شہید ہوگئے۔
    (طبرانی کبیرالمعجم الکبیر،رقم ۹۵۱ ،ج۲۲، ص ۳۸۱)
(۹۹۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعُتبہ بن عبد سُلَمِی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے كہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اٹھو اور جہاد کرو۔''تو ایک شخص نے تیرچلایا ۔ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ،'' اس تِیرنے اس کے لئے (جنت) واجب کردی ۔''
(المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث عتبۃ بن عبد السلمی ،رقم ۱۷۶۶۳ ، ج ۶ ، ص ۲۰۲)
Flag Counter