| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۹۸۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا مَعدَان بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نے آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ طائف کا محاصرہ کیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ،''جس نے راہ ِخدا عزوجل میں ایک تیرچلایا وہ اس کے لئے جنت میں ایک درجہ ہوگا ۔''تو اُس دن میں نے سولہ تیر چلائے ۔
(الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان ، کتاب السیر ، باب فضل الجہاد ،رقم ۴۵۹۶ ، ج۷ ، ص ۶۵)
(۹۸۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعمرو بن عَبَسَہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے راہ ِخدا عزوجل میں ایک تیرچلایا وہ اس کے لئے جنت میں ایک درجہ ہوگا ۔''تو اس دن میں نے سولہ تیر چلائے ۔
(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث عمر وبن عنبہ، رقم ۱۹ ۷۰ ۱،ج۶ ،ص ۵۶)
(۹۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے راہ ِخدا عزوجل میں ایک تیرچلایا تو اس کے لئے ایک غلام آزادکرنے کے برابر ثواب ہے ۔''
(تر مذی، کتا ب فضائل الجہاد ،باب ماجاء فی فضل الرمی فی سبیل اللہ ،رقم ۱۶۴۴ ،ج۳ ،ص ۲۳۹)
(۹۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناکعب بن مُرَّہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' راہ خدا عزوجل میں ایک تیرچلانا ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے۔''
(الاحسان بتر تیب صحیح ابن حبان ، کتاب السیر ، باب فضل الجہاد ، رقم ۴۵۹۵ ، ج ۷ ، ص ۶۵)
(۹۹۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو اُمامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس کے بال اسلام میں سفید ہوئے تواس کے بالوں کی سفیدی قیامت کے دن اس کے لئے نورہوگی اور جس نے راہِ خدا عزوجل میں ایک تیرچلایا وہ خطاگیا یا نشانے پر لگا تواس کے لئے اولادِاسماعیل علیہ السلام میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ہے۔''
(المعجم الکبیر ،رقم ۷۵۵۶ ،ج۸ ،ص ۱۲۲)
(۹۹۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس کے بال راہ ِ خدا عزوجل میں سفید ہوئے اس کے بالوں کی سفید ی قیامت کے دن اس کے لئے نور ہوگی اور جس نے راہِ خدا عزوجل میں ایک تیرچلایا وہ دشمن کو لگے یا نہ لگے تیر چلانے والے کو ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اورجس نے ایک مومن جان کوآزاد کیا تو اس غلام کا ہر عضو آزاد کرنے والے کے ایک عضو کاجہنم سے آزادی کے لئے فدیہ ہوجائے گا۔''
(سنن نسائی ، کتاب الجہاد ، باب ثواب من رمی بسھم فی سبیل اللہ عزوجل ، ج ۶ ، ص ۲۶)