(مسلم ،کتا ب الامارۃ ،باب فضل الرمی والحث علیہ ،رقم ۱۹۱۷ ،ص ۱۰۶۱)
(۹۸۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناعقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''بے شک اللہ عزوجل ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا،(۱) اس تیرکے بنانے والے کو جو اسے بناتے وقت خیر کی امید رکھے، اور(۲)تیرپھینکنے والے کو ،اور(۳)تیر پکڑانے والے کو،''پھر فرمایا ، ''تیراندازی کیا کرو، اور سواری کیا کرو، اور تمہارا تیر اندازی کرنا مجھے تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسندہے،اور جو تیر اندازی سیکھنے کے بعد اس سے غفلت کرتے ہوئے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کو چھوڑ دیایاکفران ِنعمت کیا۔''
(ابو داؤد ،کتاب الجہاد ،باب فی الرمی ،رقم ۲۵۱۳ ،ج۳، ص ۱۹)
(۹۸۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''دو لشکروں کے درمیان چلنے والے کے لئے ہر قدم پر ایک نیکی ہے۔''
(مجمع الزوائد ، کتاب الجہاد ، باب ماجاء فی القسی والرمی..الخ، رقم ۹۳۹۳، ج ۵ ،ص۴۹۱ )
(۹۸۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناکعب بن مُرَّہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے دشمن کو تیر مارا اللہ عزوجل اس کا ایک درجہ بلند فرمائیگا ۔'' سیدنا عبدالرحمن بن نَحَّام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ درجہ کتنا بڑاہوگا؟'' ارشادفرمایا،'' وہ تمہاری ماں کے گھر کی چوکھٹ جتنا نہیں ہوگا بلکہ ان دودرجوں کے درمیان سوسال کا فاصلہ ہوگا۔''
(سنن النسائی ، کتاب الجھا د ،با ب ثواب من رمی بسھم فی سبیل اللہ عزوجل ، ج ۶ ، ص ۲۷)