| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانیت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا ، ''حسد(جائز) نہیں مگر دو آدمیوں سے، پہلاوہ شخص ہے جسے اللہ عزوجل نے مال عطا فرمایا اور اسے حق کے معاملہ میں خرچ کرنے پر مقرر کردیا اوردوسراوہ شخص جسے اللہ تعالی نے علم وحکمت عطا فرمائی اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرے اور اسے دوسروں کو سکھائے ۔''
(صحیح بخاری ، کتاب العلم، رقم ، ۷۳،ج ۱، ص ۴۳)
وضاحت:
اس حدیث میں حسد سے مراد غِبْطَہ یعنی رشک ہے اور دوسرے کی نعمت کی اپنے لئے تمنا کرنا غبطہ کہلاتاہے جبکہ اس کی نعمت کے زوال کی تمنا نہ کی جائے ۔ (۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابودَرْدَاء رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہو ئے سناکہ ''جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلتاہے، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان فرمادیتاہے اور بے شک فرشتے طالب العلم کے عمل سے خوش ہوکر اس کے لئے اپنے پر بچھا دیتے ہیں اور بے شک زمین وآسمان میں رہنے والے یہاں تک کہ پانی میں مچھلیاں عالم دین کے لئے استغفار کرتی ہیں اور عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسی چودھویں رات کے چاند کی دیگر ستاروں پر اور بے شک علماء انبیا ء علیہم السلام کے وارث ہیں، بیشک انبیاء علیہم السلام درہم ودینار کا وارث نہیں بناتے بلکہ وہ نفوس ِ قدسیہ علیہم السلام تو صرف علم کا وارث بناتے ہیں، تو جس نے اسے حاصل کرلیا اس نے بڑا حصہ پالیا ۔''
(سنن ابن ماجہ ،کتاب السنۃ،باب فضل العلماء الخ، رقم ۲۲۳، ج ۱، ص ۱۴۵ )
(۱۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' اس امت کے علماء دو شخص ہیں ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا تواس نے وہ علم لوگوں کو سکھایا لیکن اس کے بدلے کسی شے کے حصول کا لالچ نہ کیااورنہ ہی اس کے بدلے مال حاصل کیا اور یہ وہی شخص ہے جس کے لئے سمندر میں مچھلیاں اور خشکی میں چلنے والے جانور اور فضاء میں پرندے استغفار کرتے ہیں اوردوسرا وہ جسے اللہ تعالی نے علم عطا فرمایا اور اس نے اسے اللہ کے بندوں سے بخل کرتے ہوئے چھپایا اورلالچ کرتے ہوئے اس کے بدلے مال کمایا، یہ وہی شخص ہے جسے قیامت کے دن آگ کی لگام پہنائی جائے گی اورایک منادی نداء کریگاکہ،'' یہ وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا فرمایا تواس نے اسے اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بخل کرتے ہوئے روک لیا اورلالچی