| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(راوی فرماتے ہیں ) یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اس کے پیشاب اور لید کرنے میں بھی ثواب کا ذکرکیا (پھر فرمایا)،''اور جو گھوڑ ے اپنے مالک کے لئے ڈھال ہیں یہ وہ گھوڑ ے ہیں جنہیں انکا مالک پاکدامنی اور زینت اور پردہ پوشی کیلئے اپنے پاس رکھے اورتنگدستی وخوشحالی میں ان کے پیٹ اورپیٹھ کے حقوق ادا کرنے سے نہ چوکے،اور جو گھوڑے اپنے مالک کیلئے بوجھ ہیں یہ وہ گھوڑے ہیں جنہیں ان کا مالک عز وروتکبر اورمسلمانوں کی بد خواہی کے لئے اپنے پاس رکھے۔''
(صحیح ابن خزیمہ ، کتاب الزکاۃ ، باب ذکر اسقاط الصدقۃ عن الحمر ، رقم ۲۲۹۱ ، ج ۴ ، ص ۳۱)
(۹۷۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے اللہ عزوجل پر ایمان اور اس کے وعدے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنے گھوڑے کو اللہ عزوجل کی راہ میں وقف کردیا تو اس کاچارا، پانی، لید اورپیشاب قیامت کے دن نیکیاں بناکر اسکی میزان میں ڈال دی جائیں گی۔''
(صحیح البخاری ، کتاب الجہاد و السیر ، باب من احتبس فرسا ، رقم ۲۸۵۳ ،ج ۲، ص ۲۶۹)
(۹۷۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدتنا اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ'' گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے بھلائی پوشید ہ ہے لہذا جوانہیں راہِ خدا عزوجل میں تیار کرنے کے لئے باندھے اور اللہ عزوجل کی راہ میں ثواب کی امید رکھتے ہوئے انپرخر چ کرے تو ان گھوڑوں کے شکم سیر ہونے ،ان کے سیراب ہونے، ان کی لید اور پیشا ب کو قیامت کے دن اس کے میزان میں نیکیاں بنا کرڈال دیا جائے گااور جو اسے دکھاوے اور غرو ر وتکبر کی وجہ سے باندھے تو اس کاچارا ،پانی ، اس کی لید اور اس کاپیشا ب قیامت کے دن اس کے میزان میں خسارہ کا سبب ہوں گے ۔''
(مسند اما م احمد بن حنبل ، من حدیث اسماء ابنۃ یزید رضی اللہ عنہا ،رقم ۲۷۶۴۵،ج۱۰ ص ۴۳۶ )
(۹۷۹)۔۔۔۔۔۔ ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' گھوڑے تین ہیں، ایک وہ جسے آدمی اللہ عزوجل کی راہ میں باندھے تو اس کا بدلہ ثواب ہے اور اس پرسوارہونا ثواب ہے اور اسے عاریت پر لینا ثواب ہے اور اس کا چارہ ثواب ہے اور وہ گھوڑا جس پر شرط لگائی جائے اور جسے رہن کے طو ر پر رکھا جائے تو اس کی بیع کا بدلہ گناہ ہے اور اس پر سوار ہونا گناہ ہے اور وہ گھوڑا جسے شکم سیری کے لئے با ندھاجائے تو اگر اللہ عزوجل چاہے تو شاید وہ گھوڑا فقر سے بچا ؤ کا ذریعہ ہوجائے ۔''
(مسند امام احمد،رقم ۱۶۶۴۵،ج۵، ص۵۹۲)
(۹۸۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عُروَہ بن ابو جَعْد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایاکہ'' گھوڑےکی پیشانی میں قیامت تک بھلائی یعنی ثواب اورغنیمت پوشید ہ ہے۔''
( صحیح بخاری ،کتا ب الجہاد ،باب الجہاد ماض الخ ،رقم ۲۸۵۲ ،ج۲ ،ص ۲۶۹)