| جنت میں لے جانے والے اعمال |
جانا اور تمہاری وجہ سے آج رات ہم دھوکہ نہ کھاجائیں ۔''جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جائے نماز پر دو رکعتیں ادا کیں پھر فرمایا،'' کیا تم نے اپنے سوار کو دیکھا؟'' صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے عرض کیا،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم نے اسے نہیں دیکھا۔'' پھر نماز کےلیے اقامت کہی گئی تو حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھانے لگے اور نماز کے دوران پہاڑکی چوٹی کی طرف توجہ فرماتے رہے ۔
جب آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے نماز پوری فرمالی تو فرمایا ، ''خوش ہوجاؤ تمہارا سوار آگیا۔'' تو ہم گھاٹی کے درختوں کے خلا کی طرف دیکھنے لگے ۔ اچانک وہ صحابی آگئے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکر سلام عرض کیا اور عر ض گزار ہوئے ،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہاں سے روانہ ہونے کے بعد پہاڑکی چوٹی پراس جگہ پہنچا جہاں تک پہنچنے کا اللہ عزوجل کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا تھا،جب صبح ہوئی تو میں نے دونوں چوٹیوں کو دیکھا جب خو ب نظر دوڑائی تو کوئی نظر نہیں آیا۔'' تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،'' کیا رات کو تم پہاڑسے اترے تھے ؟'' انہوں نے عرض کیا،'' نہیں صرف نماز اور قضائے حاجت کے لئے اترا تھا۔'' تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا،''تم نے اپنے لئے(جنت) واجب کرلی،اب اس پہرہ کے بعد کوئی عمل نہ کرنا تمہیں نقصان نہ دے گا۔''( سنن ابوداؤد، کتا ب الجہاد، با ب فضل الحر س ،رقم ۲۵۰۱ ،ج۳ ،ص ۱۴)
(۹۷۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''کیا میں تمہیں شب قدر سے افضل رات کے بارے میں نہ بتاؤں ؟(پھر فرمایا) جب پہرہ دار ایسے خوفناک مقام پرپہرہ دے جہاں اسے اپنے گھروالوں کی طرف زندہ سلامت پلٹنے کی امید نہ ہو۔''
(المستدرک، کتا ب الجہاد ، باب ذکر لیلۃ افضل من لیلۃ القد ر ،رقم ۲۴۷۰، ج۲، ص ۴۰۰)
(۹۷۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے ساحل ِسمندر پر ایک رات پہرہ دیا تواس کایہ عمل اپنے گھرمیں ایک ہزارسال عبادت کرنے سے افضل ہے ۔''
(مسند ابی یعلی الموصلی ، مسند انس بن مالک ، رقم ۴۶۲۷ ، ج ۳ ،ص۴۴۹ )
(۹۷۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''بندے کا راہ ِخداعزوجل میں ایک رات پہرہ دینا اپنے گھر میں ایک ہزارسال کے روزوں اور راتو ں میں قیام کرنے سے افضل ہے اوریہ سال تین سو دن کاہے اور ایک دن گویاہزار سال کا ہے۔''
(سنن ابن ماجہ، کتا ب الجہاد ،با ب فضل الحر س والتکبیر،رقم ۲۷۷۰، ج۳ ،ص ۳۴۴)