Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
345 - 736
بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہ چھوسکے گی :وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کے خوف سے روئے اور وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزارے۔''
(ترمذی،کتا ب فضائل الجہاد ،با ب ماجاء فی فضل الحر س فی سبیل اللہ ،رقم ۱۶۴۵ ،ج۳، ص ۲۳۹)
(۹۶۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' دو آنکھوں کو جہنم کی آگ کبھی بھی نہ چھو سکے گی وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کی راہ میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزارے اور وہ آنکھ جو اللہ عزوجل کے خوف سے روئے۔''
    (مسند ابی یعلی الموصلی،مسند انس بن مالک، رقم ۴۳۳۹ ، ج ۳، ص ۴۲۵)
(۹۶۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنامعاذ بن انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''وہ شخص جو اللہ تبارک وتعالی کی راہ میں مسلمانوں کی حفاظت کے لئے رضا کا رانہ طور پر پہرہ دے اور اسے حاکم کے خوف نے پہرہ دینے پرمجبو ر نہ کیا ہوتو وہ اپنی آنکھو ں سے جہنم کو نہ دیکھے گا مگر اللہ عزوجل کی قسم پوری کرنے کے لئے کیونکہ اللہ عزوجل فرماتاہے ،
وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا ۚ
ترجمہ کنزالایمان :اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزردوزخ پر نہ ہو۔(پ 16،مریم : 71)
( المسند للا مام احمد بن حنبل ،مسند معا ذ بن اَنس ،رقم ۱۵۶۱۲ ،ج۵، ص ۳۰۸)
(۹۶۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو رَیحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اللہ عزوجل کے خوف سے بہنے والی یا رونے والی آنکھ پر جہنم حرام ہے اور اللہ عزوجل کی راہ میں ساری رات پہرہ دینے والی آنکھ پر جہنم حرام ہے اور ان کے علاوہ تیسری آنکھ بھی ہے جس پر جہنم حرام ہے ( جسے راوی سن نہ پائے)۔''
(المستدرک، کتا ب الجہاد ، باب حرمت النار علی عین۔۔۔۔۔۔الخ ،رقم ۲۴۷۸، ج۲ ،ص۴۰۳)
(۹۶۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناسہل بن حَنْظَلِیَّہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے ساتھ غزوہ حنین کے دن سفر کررہے تھے، سفر طویل ہوگیا یہاں تک کہ رات ہو گئی ۔ جب اگلے دن ہم نے سرکارِ مدینہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ِظہر ادا کی تو ایک سوار آیا اور عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کے سامنے سے گیا یہاں تک کہ میں فلاں فلاں پہاڑپر چڑھا تو میں نے ہوازن والوں کو مال سے لدے ہوئے اونٹ، مویشی اور عورتوں کے ساتھ دیکھاکہ وہ حنین کی طر ف آنے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں ۔''تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم مسکرانے لگے اور فرمایا،'' وہ کل مسلمانوں کی غنیمت ہوجائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔'' 

    پھرآپ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم نے فرمایا،'' آج رات ہمارے لئے پہرہ کون دے گا؟''حضرتِ سیدنا اَنس بن ابی مَر ثدغَنَوِی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں پہرہ دوں گا۔'' فرمایا ، ''سوارہوجاؤ۔'' جب وہ اپنے گھوڑے پرسوار ہوکرآپ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے ان سے فرمایا ، '' اس گھاٹی کی طرف جاؤ اور اس کی بلندی پر چڑھ
Flag Counter