(۹۶۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''لوگو ں کے لئے سب سے اچھی زندگی اس شخص کی ہے جو اللہ عزوجل کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگا م تھام کر اس کی پشت پر سوار ہوکر اُڑتا ہے، جب بھی دشمن کی للکار یا کسی خطرناک دشمن کے بارے میں سنتا ہے تو اسے مارنے یاخو د مرجانے کے لئے گھوڑے کو دوڑاکردشمن کے قریب پہنچ جاتا ہے یا اس شخص کی اچھی زندگی ہے جو چند بکریاں لے کرپہاڑ کی اِن چوٹیوں میں سے کسی ایک چوٹی کے سرے پر یا ان وادیوں میں سے کسی وادی میں نکل جائے ۔وہاں نَماز قائم کرے اور زکوٰۃ اداکرے اور موت آنے تک اپنے رب عزوجل کی عبادت کرتا ہے اوربھلائی کے سوا لوگوں کے کسی معاملے میں نہ پڑے۔''
(صحیح مسلم ، کتاب الامارۃ ،باب فضل الجہاد والربا ط ، رقم ۱۸۸۹ ، ص ۱۰۴۸ )