| جنت میں لے جانے والے اعمال |
پرَوں سے چھوُتے ہیں اور ان کے لئے ہر خشک و تر چیز اور سمندر کی مچھلیاں اور جاندار اور خشکی کے درندے اور چوپائے استغفار کرتے ہیں کیونکہ علم جہالت کے مقابلہ میں دلوں کی زندگی ہے اور تاریکیوں کے مقابلہ میں آنکھوں کا نور ہے، علم کے ذریعے بندہ اخیار یعنی اولیاء کی منازل کو پالیتا ہے اور دنیا و آخرت میں بلند مرتبہ پر پہنچ جاتا ہے اور علم میں غور وفکرکرنا روزوں کے برابر ہے اور اسے سیکھنا سکھانانَماز کے برابر ہے ،اسی کے ذریعہ صلہ رحمی کی جاتی ہے اور اسی سے حلال وحرام کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور یہ عمل کا امام ہے اور عمل اس کے تابع ہے اور خوش بختوں کو علم کا الہام کیا جاتا ہے جبکہ بد بختوں کو اس سے محروم کردیاجاتا ہے ۔''
(الترغیب والترہیب،کتاب العلم، باب الترغیب فی العلم، رقم،۸،ج۱،ص۵۲)
(۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سَمُرَہْ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ''قیامت کے دن علماء کی سیاہی اور شہداء کے خون کو تولا جائے گا '' اور ایک روایت میں ہے کہ ''اور علما ء کی سیاہی شہداء کے خون پر غالب آجائے گی۔''
(تاریخ بغداد، ج۲ ،ص ۱۹۰)
(۶)۔۔۔۔۔۔ حضر ت ابواُمَامَہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا ،کہ ''اس علم کو قبض ہو نے سے پہلے حاصل کرلو اور اس کے قبض ہونے سے مراداس کا اٹھالیا جانا ہے۔'' پھر رسول ِاکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے شہادت اور بیچ کی انگلیاں ملا کر ارشاد فرمایا کہ'' عالم اور متعلم خیر میں حصہ دار ہیں اور ان کے علاوہ دیگر لوگوں میں کوئی بھلائی نہیں۔ ''
(سنن ابن ماجہ، کتا ب السنہ، رقم ۲۲۸، ج ۱، ص ۱۵۰)
(۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ'' اللہ عزوجل کے مجھے علم اور ہدایت کے ساتھ مبعوث کرنے کی مثال اس بارش کی طرح ہے جو بنجر زمین کے ایک اچھے ٹکڑے پر برسی،جس نے اسے قبول کیا اور اس پانی سے گھاس اگائی اور بہت سے درخت لگائے اور وہاں کچھ خشک زمینیں ایسی تھیں جنہوں نے پانی کو روک لیااور اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعے لوگوں کو نفع پہنچایا تو انہوں نے اسے پیا اور پلایا اور کاشت کاری کی اور یہی بارش جب زمین کے دوسرے ٹکڑے تک پہنچی جس کی سطح ہموار تھی جونہ تو پانی روکتی تھی اور نہ ہی گھاس اگاتی تھی پس یہ مثال اس شخص کی ہے جس نے اللہ عزوجل کا دین سیکھ کردوسروں کوسکھایا اور جس چیز کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اس نے اسے نفع پہنچایا اور اس نے علم سیکھا اور سکھایا اور اس شخص کی مثال ہے جس نے علم کے ذریعے بالکل بھی بلندی حاصل نہ کی اور نہ ہی اس ہدایت کو قبول کیا جو میرے ساتھ بھیجی گئی ۔
(صحیح بخاری ، کتاب العلم ، رقم ۷۹، ج ۱، ص ۴۶،بتغیرقلیل)