| جنت میں لے جانے والے اعمال |
تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے والارات بھر عبادت اور دن بھر روزہ رکھنے والے کی طرح ہے جو نہ تو کوئی روزہ چھوڑتاہے اور نہ کوئی نماز، یہاں تک کہ اللہ عزوجل اسے اس کے اہل کی طرف ثواب یا غنیمت کے ساتھ لوٹائے یا اس کو شہادت سے سرفراز فرما کر جنت میں داخل فرمائے ۔''
(الا حسان بتر تیب صحیح ابن حبان ، کتاب السیر ، باب فضل الجہاد ، رقم ۴۶۰۳، ج ۷ ، ص ۶۸)
(۹۳۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے دریافت فرمایا، ''تم کس کو شہداء میں شمار کرتے ہو؟'' صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم نے عرض کیا ،''جو اﷲ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے۔'' آپ نے ارشاد فرمایا،'' اس طرح تو میری امت میں شہید بہت کم ہوں گے ۔''تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! تو پھر شہید کون ہے؟'' فرمایا،''جو اللہ کی راہ میں مارا جائے وہ شہید ہے ، جو اللہ کی راہ میں مر جائے وہ شہید ہے اور جو طاعون میں مبتلاء ہوکر مرجائے وہ بھی شہید ہے ۔''
(مسلم ،کتا ب الامارۃ، با ب بیان الشھد اء ،رقم۱۹۱۴، ص ۱۰۶۰)
(۹۳۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابومالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو راہِ خدا عزوجل میں نکلے پھر مر جائے یا قتل کردیاجائے تو وہ شہید ہے اور اگر اس کا گھوڑا یا اونٹ اسے گرا کرماردے یا کوئی سانپ کاٹ لے یا اپنے بستر پر مرجائے الغرض جس طرح اللہ عزوجل چاہے اسی طریقہ سے اس کی موت واقع ہوتو وہ شہید ہے اور اس کے لئے جنت ہے۔''
( ابوداؤد ،کتاب الجہاد ،باب فیمن مات غاز یا ،رقم ۲۴۹۹ ،ج۳، ص ۱۴)
(۹۴۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو حج کے لئے نکلا اور اسی دوران اس کا انتقال ہو گیا قیامت تک اس کے لئے حج کرنے والے کا ثواب لکھا جاتا رہے گا اور جو عمرہ کرنے کیلئے نکلااور اسی حالت میں اس کا انتقال ہوگیا تو بر وز قیامت تک اس کے لئے عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھا جائے گا اور جو جہاد کرنے نکلا اور اس کا انتقال ہو گیا قیامت تک اس کے لئے جہادکا ثواب لکھا جاتارہے گا ۔''
(مسند ابی یعلی الموصلی ، مسند ابی ہریرۃ ، رقم ۶۳۲۷ ، ج۵، ص ۴۴۱)
(۹۴۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابن عمررضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میرا جو بندہ میری رضاچاہتے ہوئے میری راہ میں جہاد کے لئے نکلے گا میں اسے