(۹۳۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابی المُصَبِّح المُقرائی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم روم کی سرزمین پرمحو ِسفر تھے۔ حضرتِ سیدنا مالک بن عبد اللہ خَثمِی رضی اللہ تعالیٰ عنہ لشکر کے سالار تھے ۔جب حضرتِ سیدنا مالک رضی اللہ عنہ حضرتِ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قریب سے گزرے جو اپنے خچر کی لگا م تھامے آگے جارہے تھے تو حضرتِ سیدنا مالک رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا،''اے بندے! اللہ تعالی نے تمہیں سواری دی ہے اس پر سوار ہوجاؤ۔'' تو حضر ت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا،'' میں اپنی سواری سدھارہاہوں اور اپنی قوم سے بے پرواہ ہوں اورمیں نے رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا،'' جس کے قدم راہِ خداعزوجل میں گردآلود ہوجائیں اللہ عزوجل اسے جہنم پر حرام فرمادیتاہے۔''
ان کی بات حضرت سیدنا مالک رضی اللہ عنہ کو پسند آئی پھر وہ آگے بڑھ گئے یہا ں تک کہ ایک ایسے مقام پر پہنچے جہاں خاموشی تھی ۔کسی نے بلند آواز سے کہا، ''اے ابوعبد اللہ!اللہ عزوجل نے تمہیں سواری عطا فرمائی ہے لہذا اس پر سوار ہو جاؤ۔'' تو حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ منادی کا مقصد سمجھ گئے، چنانچہ فرمایا، ''میں اپنی سواری سدھارہا ہوں اور اپنی قوم سے بے پرواہ ہوں اورمیں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا،'' جس کے قدم راہِ خداعزوجل میں گردآلود ہوجائیں اللہ عزوجل اسے جہنم پر حرام فرمادیتاہے۔''یہ سن کر لوگ اپنی سواریوں سے اتر پڑے ۔ راوی فرماتے ہیں کہ میں نے اس دن ان سے زیادہ پیدل چلنے والا نہیں دیکھا ۔''