| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۹۱۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنازید بن خالد جُہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکرنے والے کو سامان مہیا کیا تو اس نے بھی جہاد کیا اور جس نے غازی کے جہادپر جانے کے بعد اس کے اہل خانہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تو اس نے بھی جہاد کیا ۔''
(بخاری،کتا ب الجہاد ،باب فضل من جھز غا ز یا۔۔۔۔۔۔ الخ ،رقم ۲۸۴۳، ج۲، ص ۲۶۷ )
ایک روایت میں ہے کہ'' جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکرنے والے کو سامان مہیا کیا یا مجاہد کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کی تو اس کیلئے مجاہد کے ثواب کی مثل ثواب لکھا جائے گااورمجاہد کے ثواب میں بھی کمی نہیں آئے گی۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،کتا ب السیر ، باب فضل الجہاد ،رقم۴۶۱۱ ،ج۷، ص ۷۱ )
(۹۲۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناسہل بن حُنیَف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مدد کی یا مقروض کی اس کے اہل خانہ کے معاملہ میں مدد کی یا مکاتب (وہ غلام جو اپنے آقا کومال دیکر آزاد ہونا چاہتاہو) کو آزادی میں مدددی تواللہ عزوجل اس دن اسے اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گاجس دن عرش کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ۔''
(مسند احمد ،حدیث سھل بن حنیف عن ابیہ ،رقم ۱۵۹۸۶ ،ج۵،ص۴۱۲)
(۹۲۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمربن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے مجاہد کے سر پر سایہ کیا اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن سایہ عطافرمائے گا، اور جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہد کی مدد کی اس کے لئے مجاہد کے اجر کی مثل ثواب ہے ، اورجس نے ایسی مسجد بنائی جس میں اللہ عزوجل کا ذکر کیا جائے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنائے گا ۔''
(الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، کتاب السیر ،باب فضل الجہاد ، رقم ۴۶۰۹ ، ج۷، ص ۸۰)
ایک روایت میں ہے حضرت عمربن خطا ب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ،'' جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکرنے والے کو سامان مہیا کیا اور وہ اس پر قدرت بھی رکھتا ہو تو اس کے لئے اس مجاہد کے شہید ہوجانے یا لوٹنے تک اتنا ہی ثواب ہے جتنا اس مجاہد کا ہے۔''
(ابن ماجہ ، کتاب الجہاد،باب من جھزغازیاً ،رقم ۲۷۵۸،ج۳، ص ۳۳۸)
(۹۲۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدناابو سعید خُدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے بني لحیان کی طرف ایک قاصد بھیجا کہ '' ہردومَردوں میں سے ایک جہادکے لئے نکلے،''پھر