Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
329 - 736
واٰلہٖ وسلّم کی بارگا ہ میں نکیل والی اونٹنی لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ اللہ عزوجل کی راہ میں وقف ہے۔'' تو آپ نے فرمایا،''تجھے اس کے بدلے قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں ملیں گی جن میں سے ہرایک نکیل والی ہوگی۔''
(مسلم ،کتاب الامارۃ ،باب فضل الصدقۃ فی سبیل اللہ ،رقم ۱۸۹۲، ص ۱۰۴۹)
(۹۱۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جس نے اللہ عزوجل کی راہ میں مال بھیجا حالانکہ خود اپنے گھر میں ہی ٹھہرارہا اُس کے لئے ہر درہم کے بدلے سات سو دراہم ہیں اور جس نے بذات خود اللہ عزوجل کی راہ میں جہادکیا اور اپنا مال اس جنگ میں خرچ کیا تو اس کے لئے ہر درہم کے بدلے سات لاکھ دراہم ہیں پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی
، ''وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ
ترجمہ کنزالایمان :اور اللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے۔''(پ ۳، البقرہ :۲۶۱ )
(ابن ماجہ، کتا ب الجہاد ،با ب فضل النفقۃ فی سبیل اللہ ،رقم ۲۷۶۱، ج۳،ص ۳۳۹ )
(۹۱۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''خوشخبر ی ہے اس کے لئے جو اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے ذکراللہ کی کثرت کرے تو اس کے لئے ہر کلمہ کے عوض سترہزارنیکیاں ہیں اور ان میں سے ہر نیکی دس گناہے اوراللہ عزوجل کے پاس اس سے بھی زیادہ ہے۔''عرض کیا گیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!اور اللہ عزوجل کی راہ میں خرچ کرنا؟'' فرمایا،'' خرچ کرنا بھی اسی طرح ہے۔''

    حضرت سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا،''کیاخرچ کرنا سات سوگنا ہے ؟ ''حضرتِ سیدنا معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،'' تمہارا فہم کمزور ہے، یہ تو اس وقت ہے جب لوگ گھر پر رہتے ہوئے جہاد کئے بغیر خرچ کریں اور جب وہ جہاد کرتے ہوئے اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں تو اللہ عزوجل اپنی رحمت کے اُن خزانوں کو بندوں پر کھول دیتاہے جو اِن کے علم سے پوشیدہ ہیں اور ان لوگو ں کا وصف اس طرح سے بیان کیا گیا ہے، ''یہ اللہ کی جماعت ہے اور اللہ ہی کی جماعت غالب ہے ۔''
  (طبرانی کبیر ،رقم ۱۴۳، ج۲۰، ص ۷۷)
Flag Counter