| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۹۰۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت، مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت، مَحبوبِ رَبُّ العزت،محسنِ انسانيت صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے میری قبر کی زیارت کی، ''یا یہ فرمایا،'' جس نے میری زیارت کی قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا اور جو دوحرموں میں سے کسی ایک میں مرے گا اللہ عزوجل اسے قیامت کے دن امن والوں میں اٹھائے گا۔''
(الترغیب والترہیب ،کتاب الحج ،باب فی سکنی المدینہ وفضل احدووادی العتیق ،رقم ۱۶، ج۲، ص ۱۴۷)
(۹۰۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے میرے وصال (ظاہری)کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی اور جو دوحرموں (مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ) میں سے کسی ایک میں مرے گا قیامت کے دن امن والوں میں سے اٹھایا جائے گا۔''
(سنن الدار قطنی ،کتاب الحج ،رقم ۲۶۶۸، ج۲، ص ۳۵۱)
(۹۰۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوگئی۔''
(سنن الدار قطنی، کتا ب الحج ،رقم ۲۶۶۹ ،ج۲،ص ۳۵۱)
(۹۱۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو مجھ پر سلام بھیجتا ہے اللہ عزوجل میری روح میری طرف لوٹا دیتا ہے تاکہ میں اسے سلام کا جواب دے سکوں۔''
(ابو داؤد، کتا ب المناسک ، باب زیارۃ القبور ،رقم ۲۰۴۱، ج۲، ص ۳۱۵)