| جنت میں لے جانے والے اعمال |
پچھلے صفحات میں یہ حدیث گزر چکی ہے کہ'' جو مدینہ میں ثابت قدم رہے اورمرنے تک اس کی تنگی اور سختی پر صبر کرے قیامت کے دن میں اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا ۔'' (۹۰۳)۔۔۔۔۔۔ بنو لیث کی ایک خاتو ن حضرتِ سیدتنا عَمِیْتَہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کو فرماتے ہوئے سنا،'' تم میں سے جو مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھے وہ مدینے میں ہی مرے کیونکہ جو مدینہ میں مرے گا اس کی شفاعت کی جائے گی یا اس کے حق میں گواہی دی جائے گی ۔''
(الاحسان بترتیب ابن حبان ، کتاب الحج ، باب فضل المدینۃ ، رقم ۳۷۳۴ ،ج ۶ ، ص ۲۱ )
ایک روایت میں ہے کہ'' جو مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھتاہو وہ مدینہ میں ہی مرے کیونکہ جومدینہ میں مرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کرونگااور اس کے حق میں گواہی دوں گا۔''
(شعب الایمان ، باب فی المناسک فضل الحج و العمرۃ ، رقم ۴۱۸۲، ج۳ ، ص ۴۹۷)
(۹۰۴)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جو مدینہ میں مرنے کی استطاعت رکھتاہو وہ مدینہ میں ہی مرے کیونکہ جومدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔''
( ترمذی ،کتاب المناقب ،باب فی فضل المدینۃ ،رقم ۳۹۴۳ ،ج۵ ،ص ۴۸۳)
(۹۰۵)۔۔۔۔۔۔ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب جُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''تم میں سے جس سے ہو سکے وہ مدینہ ہی میں مرے کیونکہ جو مدینہ میں مرے گا میں قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا یا اس کی شفاعت کروں گا۔''
(طبرانی کبیر مسند ،رقم ۷۴۷، ج۲۴، ص ۲۹۴)
(۹۰۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَنس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''جو شخص دوحرموں(یعنی مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ) میں سے کسی ایک میں مرے گا قیامت کے دن امن والوں میں اٹھایاجائے گا اور جوثواب کی نیت سے مدینہ میں میری زیارت کرنے آئے گا وہ قیامت کے دن میرے پڑوس میں ہوگا۔''
( شعب الایمان ،باب فی مناسک فضل الحج والعمرۃ ،رقم ۴۱۵۸ ،ج۳،ص ۴۹۰)