Brailvi Books

جنت میں لے جانے والے اعمال
323 - 736
مدینہ منورہ میں رہائش کا ثواب
(۸۹۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اگر لوگ جانتے کہ مدینہ منورہ ان کے لئے بہتر ہے اور جو اس شہر سے منہ پھیر کر اسے چھوڑدے گا اللہ عزوجل اس سے بہتر لوگوں کو اس شہر میں بسادے گا اور جو اس میں تنگدستی اور یہاں کی تکالیف پر ثابت قدم رہے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یاگواہی دوں گا۔''(۸۹۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' اگر لوگ جانتے کہ مدینہ منورہ ان کے لئے بہتر ہے اور جو اس شہر سے منہ پھیر کر اسے چھوڑدے گا اللہ عزوجل اس سے بہتر لوگوں کو اس شہر میں بسادے گا اور جو اس میں تنگدستی اور یہاں کی تکالیف پر ثابت قدم رہے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یاگواہی دوں گا۔''
    (مسلم ،کتاب الحج ،باب فضل المدینہ ،رقم ۱۳۶۳، ص ۷۰۹)
 (۸۹۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' جو میری امت میں سے مدینہ میں تنگدستی اور سختی پر صبر کریگا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے لئے گواہی دوں گا۔''
(مسلم ،کتاب الحج ،باب الترغیب فی سکنی المدینہ ،رقم ۱۳۷۸ ،ص ۷۱۶)
 (۸۹۷)۔۔۔۔۔۔ امیر المومنین حضرتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں چیزوں کے نرخ بڑھ گئے اور حالات سخت ہوگئے تو نبی کریم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' صبر کرواور خوش ہوجاؤ کہ میں نے تمہارے صاع اور مُد کو بابرکت کردیا اور اکٹھے ہوکرکھایا کرو کیونکہ ایک کا کھانا دو کو کفایت کرتاہے اور دوکا کھانا چار کو کفایت کرتا ہے اور چار کا کھانا پانچ اور چھ کو کفایت کرتاہے اور بیشک برکت جماعت میں ہے تو جس نے مدینہ کی تنگدستی اور سختی پر صبر کیا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا اس کے حق میں گواہی دوں گا اور جو اس کے حالات سے منہ پھیر کرمدینہ سے نکلا اللہ عزوجل اس سے بہتر لوگوں کو اس میں بسادے گا اور جس نے مدینہ سے برائی کرنے کا ارادہ کیا اللہ عزوجل اسے اس طرح پگھلادے گاجیسے نمک پانی میں پگھل جاتاہے۔''
 ( مجمع الزوائد ،کتاب الحج ،باب الصبر علی جھد المدینہ ،رقم ۵۸۱۹،ج ۳، ص ۶۵۷ ،)
 (۸۹۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا اَفْلَح رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرتِ سیدنا یزید بن ثابت اور سیدناابوایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہماکے قریب سے گزرا ۔یہ دونوں'' مسجد جنائز ''کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے پوچھا،'' کیا تمہیں وہ بات یاد ہے جو رسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ہمیں اسی مسجد میں بیان فرمائی تھی؟'' تو دوسرے نے کہا،'' ہاں مدینہ شریف کے بارے میں آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا خیال تھا کہ عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا جس میں زمین کی فتوحات کھول دی جائیں گی اور لوگ اس کی طرف نکل کھڑے ہونگے تو وہ خوشحالی اور عیش وعشرت اور لذیذکھانے پائیں گے پھر اپنے حج یا عمرہ کرنے والے بھائیوں کے پاس سے گزریں گے تو ان سے کہیں گے تم تنگدستی اور سخت بھوک کی زندگی کیوں گزار رہے ہو ؟رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کئی مرتبہ یہ جملہ دہرایاکہ'' جانے والا اور رہ جانے والا '' اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہے جو اس
Flag Counter