| جنت میں لے جانے والے اعمال |
(۸۹۱)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ اللہ عزوجل کے مَحبوب، دانائے غُیوب، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، '' آبِ زم زم اسی مقصدکے لئے ہے جس کے لئے اسے پیا جائے ،اگر تو ا سے شفا کی غرض سے پئے گا تو اللہ عزوجل تجھے شفا دے گا اور اگر تو شکم سیری کیلئے پئے گا تو اللہ عزوجل تجھے شکم سیر فرمادے گا اور اگر تو اسے اپنی پیاس بجھانے کے لئے پئے گا تو اللہ عزوجل تیری پیاس بجھادے گا اور اگرتو اسے پناہ حاصل کرنے کیلئے پئے گا تواللہ عزوجل تجھے پناہ عطافرمائے گا۔''
حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماجب آب زم زم پیتے تو یہ دعا مانگتے'' اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْماً نَافِعاً وَّرِزْقاً وَّاسِعاً وّشِفَاءً مِّنْ کُلِّ دَاءٍ
ترجمہ:اے اللہ!میں تجھ سے نفع دینے والا علم وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفا کا سوال کرتاہوں ۔''
(المستدرک ،کتاب المناسک ،باب ماء زمزم لماشرب لہ،رقم۱۷۸۲ ،ج۲، ص۱۳۲ بتغیر قلیل)
(۸۹۲)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا،''آبِ زم زم اسی مقصد کے لئے ہے جس کے لئے اسے پیاجائے۔ ''
( ابن ماجہ ،کتاب المناسک ،باب الشرب من زمزم ،رقم ۳۰۶۲، ج۳، ص ۴۹۰)
(۸۹۳)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کے غلام حضرتِ سیدناحسن بن عیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ عنہ کو زم زم کے کنویں پر آتے دیکھا ۔آپ نے ایک ڈول پانی پیا اور قبلہ رخ ہوکر دعامانگی ،''اے اللہ عزوجل ! مجھے عبداللہ بن مُؤْمِّلْ نے ابو زبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے روایت کرتے ہوئے یہ حدیث بیان کی ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال،، دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال، رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' آبِ زم زم اسی کے لئے ہے جس کے لئے اسے پیا جائے۔'' لہذا میں قیامت کی پیاس سے تحفّظ کے لئے اسے پی رہا ہوں ۔''
( شعب الایمان،باب فی المناسک ،فضل الحج ،رقم ۴۲۱۸،ج۳، ص ۴۸۱ )
(۸۹۴)۔۔۔۔۔۔حضرتِ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ خاتِمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃُ الِّلْعٰلمین، شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین، مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امين صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' سطح زمین پر سب سے بہتر پانی آبِ زم زم ہے کہ یہ ایک قسم کا کھانا بھی ہے اور بیماری سے شفابھی ہے۔''
( مجمع الزوائد ،کتاب الحج ،باب فی زمزم، رقم ۵۷۱۲،ج۳، ص ۶۲۱ )