| جنت میں لے جانے والے اعمال |
گناہوں کی مغفرت کردی جاتی ہے''۔حضرتِ سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا، ''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا یہ بشارت صرف ہمارے (یعنی اہلِ بیت کے ) لئے خاص ہے یا دیگر مسلمانوں کے لئے بھی ہے ؟''فرمایا،''بلکہ ہمارے اور دیگر مسلمانوں سب کے لئے ہے۔''
(المستدرک ،کتاب الاضاحی ،باب یغفر لمن یضحی عند اول قطرۃ تقطرمن الدم،رقم ۷۶۰۰، ج۵، ص ۳۱۴ )
(۸۸۷)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ، صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،'' لوگو! قربانی کرو او ر ان کے خون پر ثواب کی امید کرتے ہوئے صبر کرو کیونکہ خون اگر زمین پر گرے تو اللہ عزوجل کی حفاظت میں گرتاہے۔''
(طبرانی اوسط ،رقم ۸۳۱۹، ج۶، ص ۱۴۸)
(۸۸۸)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر، دو جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''جو ثواب کی امید پر خوشدلی سے قربانی کرے تو وہ قربانی اس کے لئے جہنم سے حجاب ہوگی۔''
(مجمع الزوائد ،کتاب الاضاحی ،باب فضل الاضحیہ ،رقم ۵۹۳۷، ج۴ ،ص ۹)
(۸۸۹)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے مروی ہے کہ حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا،''عید کے دن قربانی میں خرچ کرنااللہ عزوجل کو سب سے زیادہ محبوب ہے۔ ''
(معجم کبیر ،مسند ابن عباس ،رقم ۱۰۸۹۴ ،ج۱۱، ص ۱۵)
(۸۹۰)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا ،'' یارسول اللہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم !یہ قربانیاں کیا ہیں؟'' آپ نے ارشاد فرمایا،'' تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہیں ۔'' صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ،''یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ان میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ ''فرمایا،'' ہربال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔''عرض کیا ،''اور اُون میں ؟''فرمایا،'' اس کے ہربال کے بدلے بھی ایک نیکی ہے۔''
(ابن ماجہ ،کتاب الاضاحی ،باب ثواب الاضحیہ ،رقم ۳۱۲۷ ،ج۳ ،ص ۵۳۱)