''وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِر''
سے قربانی کے جانوروں کی تعظیم اور انہیں فربہ کرنا مراد ہے۔
(الدرالمنثور، الحج ، ۳۲ ، ج ۶ ، ص ۴۶)
(۸۸۴)۔۔۔۔۔۔ام المومنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار، شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختار، حبیبِ پروردگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،''قربانی کے دن آدمی کا کوئی عمل اللہ عزوجل کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں،بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ عزوجل کی بارگاہ میں پہنچ جاتا ہے لہذاخوشدلی سے قربانی کیاکرو۔''
(ترمذی ،کتاب الاضاحی ،باب فی فضل الاضحیہ ،رقم۱۴۹۸، ج۳ ،ص ۱۶۲)
(۸۸۵)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا ،'' اے فاطمہ !اٹھو اوراپنی قربانی کا جانور لیکر آؤ کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی تمہارے تمام گناہ معاف کردئیے جائیں گے اور قیامت کے دن اس کا خون اور اس کا گوشت ستّر گنا اضافے کے ساتھ تمہاری میزان میں رکھا جائے گا ۔''حضرتِ سیدنا ابوسَعِیْد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا،'' یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!کیا یہ بشارت صرف آل ِمحمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص ہے کیونکہ یہ ہرخیر کے ساتھ خاص کئے جانے کے اہل ہیں یا یہ بشارت آل محمد صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے لئے خصوصاً اور دیگر مسلمانوں کے لئے عموماً ہے ؟'' فرمایا،'' آل ِمحمد کے لئے بالخصوص اور دیگر مسلمانوں کے لئے عمومی طور پر ہے ۔''
(الترغیب والترہیب ،کتا ب الاضحیہ ،رقم ۳ ،ج۲ ،ص ۱۰۰)
(۸۸۶)۔۔۔۔۔۔ حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسول اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا، ''اے فاطمہ !اٹھو اور اپنی قربانی کا جانورلاؤ کیونکہ تمہارے لئے اس کے خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی پچھلے